ہم سب دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں بہت مضبوط ہوچکی ہیں اور اس کی ابتداء جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور سے شروع ہوئی جو کہ ابھی تک جاری وساری ہے ہاں کبھی کبھی اس میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن ملک پاکستان کودہشت گردوں کی سرزمین کہاجاتاہے ہردہشت گردکاشناخانہ اسی سرزمین سے ملایاجاتاہے۔
ابھی منگل کو مستونگ کے علاقہ میں زائرین پرجوکہ ایران جارہے تھےانکی بس پر فائرنگ کرکے تقریباتئیس آدمیوں کو بےرحمی سے قتل کردیاگيااورآج کھلونابم سے دوبچے جان بحق ہوگئے۔
دراصل اس صوبہ میں پہلے یہ فرقہ واردیت کی وارتیں نہیں ہوتیں تھیں لیکن کچھـ عرصہ سے یہ صوبہ بھی اسکی لپیٹ میں آگیاہے جسکی وجہ سے قیمتی جانوں کاضیائع ہوتاہے ۔ لیکن ہمارے ارباب اختیاربس دوچاررٹے رٹائے طوطے کی طرح بیانات دے کرخاموش بیٹھـ جاتے ہیں اور ہماری ایجنسیاں اور پولیس بھی خاموش تماشائی بن کے یہ سب کچھـ ہوتادیکھتی ہے۔حالانکہ اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ بنتی ہے لیکن پتہ نہیں کیاہواہے کہ ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمارے سامنے قتل ہوجاتاہے اور ہم سب دیکھتےہیں لیکن اس کے خلاف کچھـ نہیں کرتےکیونکہ ہمیں اپنی زندگی بہت پیاری ہوتی ہے جبکہ یہ بات ہر مسلمان کومعلوم ہے کہ موت کاتو ایک دن معین ہے اورجب اس نے آناہے سب کچھـ چھوڑچھاڑکرعزارئیل علیہ السلام نے ہم کواپنے ساتھـ لےجاناہے لیکن ہم ظلم وزیادتی کے اسقدر عادی ہوچکےہیں کہ الامان۔ جبکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہ حدیث نبوی جس کامفہوم کچھـ یوں ہے کہ ظلم کوہاتھـ سے روکوہاتھـ سے نہیں روک سکتےتومنہ سے برا کہو۔ لیکن اگریہ بھی نہیں کرسکتےتویہ دل سے براکہو۔ لیکن یہ ایمان کی کمزورعلامت ہے ۔ ہم سب کوسوچناچاہیے کہ آخرہم سب کےساتھـ یہ کیوں ہورہاہے کیونکہ ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیاہے۔ جسکی وجہ سے ہم دنیامیں بدنام ہورہے ہیں۔ جبکہ یہ بات سب جانتے ہیں اسلام کی تعلیمات کے متعلق جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی۔جس نے ایک انسان کو قتل کیااس نے ساری انسانیت کو قتل کیا۔
لیکن یہ باتیں ہم پر اثرکیوں نہیں کرتیں ہیں؟ ہم اتنے بےحس کیوں ہوگئےہیں اسلام کی واضح تعلیمات کےباوجودان پرہم عمل کیوں نہیں کرتےہیں؟کیاہم سب منافق ہوچکےہیں کہ بس منہ سے تواظہارکرتےہیں لیکن دل سے اسلام پرعمل کیوں نہیں کرتےہیں آخرکیوں ہم اتنے پس اخلاق ہوچکےہیں؟ اس کی وجہ کیاہے؟ ہم نے کبھی غور کیاہے کہ اس باتوں کے اسباب کیاہیں ہم نے کبھی غور کیاکہ ہماری زندگی میں بےچینی کیوں ہے؟ ہم لوگ مسلمان ہیں یاہم نے بھی سکولرازم کی طرح اسلام کوفقط عبادات کا مجموعہ سمجھـ لیاہے اور بس عبادات کوہی اسلام سمجھتےہیں بلکہ اسلام کو پوری زندگی میں نافذ کیوں نہیں کرتےہیں؟ حالانکہ سب جانتےہیں کہ مستونگ واقعہ میں قیمتی جانوں کانقصان ہواہے لیکن ایک مخصوص طبقہ کے لوگ اس کی کھل کر مزاحمت کیوں نہیں کرتےہیں خودکش حملوں کی وجہ سے پورا ملک لرزرہاہے لیکن ایک طبقہ بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرےبلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ کیاہم نے اسلام کاقلعہ پاکستان جوکہ فقط اسلام کےنام پر حاصل کیاتھااسی لئے حاصل کیاتھاکہ جہاں پر ہرکوئی ایکدوسرےکومارے اور باقی سب تماشہ دیکھتےرہیں۔ کیاہم نےاسلام کو فرقوں میں تبدیل کرکے اسلام کی خدمت کی ہے کہ اس کے اتحاد کو نقصان پہنچایاہے ہمیں سوچناچاہیےکیونکہ سوچ سے حل نکلتےہیں کہ ہم اپنے آپ کو دریاکےبہاؤکےرخ پرچھوڑدیاہے۔کہ وہ ہمیں تنکےکی طرح بہاکرجہاں چاہےلےجائے۔ یاکہ ہم نے اس کے آگےبندباندھناہے۔اوراس سوچ کوختم کرکےمتحدہونےکرنےکےکوشش کرنی ہے۔ بلکہ اپنےتمام اختلافات کوپش پشت ڈال کراسلام کے لئے اورپاکستان کے لئے اکٹھےاورمتحدہوناہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو متحد ہونےکی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین ثم آمین


