December 2, 2008

سورۃ الفجرکی( تفسیرابن کثیر)(حصہ سوئم)

سجدوں کی برکتیں۔٭٭(آیت :30-21)قیامت کے ہولناک حالات کابیان ہورہاہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائے گی، اونچی نیچی زمین برابرکردی جائے گی اوربالکل صاف ہموارہوجائے گی، پہاڑزمین کے برابرکردیئے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خودخدائے تعالی مخلوق کے فیصلے کرنے کے لئے آجائے گا،یہ اس عام شفاعت کے بعد تمام اولادآدم کے سردارحضرت محمدمصطفی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی ہوگی اوریہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر کے پاس ہوآئے گی اورہرنبی کہہ دے گامیں اس قابل نہیں،پھرسب کے سب حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آئیں گے اورآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لئے تیارہوں، پھرآپ جائیں گے اورخداکے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگارلوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے،یہی پہلی شفاعت ہے اوریہی وہ مقام حمودہے جس کامفصل بیان سورت سبحان میں گذرچکاہے۔پھراللہ تعالی رب العالمین فیصلے کے لئے تشریف لائے گا،اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتاہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے، جنہم بھی لائی جائے گی۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں جنہم کی اس روزسترہزارلگامیں ہوں گی، ہرلگام پرسترہزارفرشتے ہوں گے جواسے گھسیٹ رہے ہوں گے(مسلم ،کتاب الجنۃ:باب جھنم اعاذنااللہ منھا،ح 2842)یہی روایت خودحضرت عبداللہ بن مسعود(رضی اللہ تعالی عنہ)سے بھی مروی ہے۔اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کویادکرنے لگے گا،برائیوں پرپچھتائے گا،نیکیوں کے نہ کرنے یاکم کرنے پرافسوس کرے گا، گناہوں پرنادم ہوگا۔مسنداحمدمیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں اگرکوئی بندہ اپنے پیداہونے سے لے کرمرتے دم تک سجدے میں پڑارہے اورخداکاپورااطاعت گذاررہے پھربھی اپنی اس عبادت کوقیامت کے دن حقیراورناچیزسمجھے گااورچاہے گاکہ میں دنیاکی طرف اگرلوٹایاجاؤں تواجروثواب کے کام اورزیادہ کروں۔(احمد(185/4)(197/29)(ضعیف )بقیہ بن ولیدمدلس کے سماع کی صراحت موجودنہیں)۔
پھراللہ تعالی فرماتاہے کہ اس دن خداکے عذابوں جیساعذاب کسی اورکانہ ہوگاجووہ اپنے نافرمان اورنافرجام بندوں کوکرے گانہ اس جیسی زبردست پکڑدکڑقیدوبندکسی کی ہوسکتی ہے ،زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اورہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے، یہ توہوابدبختوں کاانجام اب نیک بختوں کاحال سنیئے جوروحیں سکون اوراطمینان والی ہیں، پاک اورثابت ہیں،حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اورقبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گاکہ تواپنے رب کی طرف ،اس کے پڑوس کی طرف ، اس کے ثواب اوراجرکی طرف، اس کی جنت اوررضامندی کی طرف لوٹ چل،یہ خداسے خوش ہے اورخدااس سے راضی ہے اوراتنادے گایہ بھی خوش ہوجائے گاتومیرے خاص بندوں میں آجااورمیری جنت میں داخل ہوجا۔حضرت ابن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ)فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان (رضی اللہ تعالی عنہ)کے بارے میں اتری۔بریدہ (رضی اللہ تعالی عنہ)فرماتے ہیں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رضی اللہ تعالی عنہ)کے باری میں اتری۔
حضرت عبداللہ(رضی اللہ تعالی عنہ)سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہاجائے گاتواپنے رب یعنی اپنے جسم طرف لوٹ جاجسے تودنیامیں آبادکئے ہوئے تھی،تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی رضامندہو،یہ بھی مروی ہے کہ حضرت عبداللہ اس آیت کو۔فادخلی فی عبدی۔پڑھتے تھے یعنی اے روح میرے بندے میں یعنی اس کے جسم میں چلی جالیکن یہ غریب ہے اورظاہرقول پہلاہی ہے،جیسے اورجگہ ہے۔ثم ردوالی اللہ مولاھم الحق(سورت انعام:52)یعنی پھرسب کے سب اپنے سچے مولاکی طرف لوٹائے جائیں گے،اورجگہ ہے ۔وان مردناالی اللہ(سورتمؤمن:43)یعنی ہمارالوٹناخداکی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اوراس کے سامنے ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیںحضرت صدیق اکبر(رضی اللہ تعالی عنہ)کی موجودگی میں اتریں توآپ نے کہاکتنااچھاقول ہے،حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتمہیں بھی یہی کہاجائے گا۔(تفسیردرمنٹور(513/8)دوسری روایت میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے سامنے سعیدبن جبیرنے یہ آیتیں پڑھیں توحضرت صدیق (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے یہ فرمایاجس پر آپ نے یہ خوش خبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا۔
ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ)مفسرالقرآن خیرالامت پیغمبراللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے چچازادبھائی کاطائف میں انتقال ہواتوایک پرندآیاجس جیساپرندکبھی زمین پردیکھانہیں گیاوہ نعش میں چلاگیاپھرنکلتے ہوئے نہیں دیکھاگیا،جب آپ کودفن کردیاگیاتوقبرکے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آوازآئی اوریہ نہ معلوم ہوسکاکہ کون پڑھ رہاہے(حاکم (544-543/3۔اصابۃ(131-130/4(حسن )یہ واقعہ مختلف طرق سے مروی ہے)یہ روایت طبرانی میں بھی ہے ابوہاشم قباث بن زرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنگ روم میںہم دشمنوں کے ہاتھ قیدہوگئے ،شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایااورکہایاتم اس دین کوچھوڑدویاقتل ہونامنظورکرلو،ایک ایک کووہ یہ کہتاکہ ہمارادین قبول کردوورنہ جلادکوحکم دیتاہوں کہ تمہاری گردن مارے، تین شخص تومرتدہوگئے جب چوتھاآیاتواس نے صاف انکارکیابادشاہ کے حکم سے اس کی گردن اڑادی گئی اورسرکونہرمیں ڈال دیاگیا،وہ نیچے ڈوب گیااورذراسی دیرمیں پانی پرآگیااوران تینوں کی طرف دیکھ کرکہنے لگاکہ اے فلاں اوراے فلاں اوراے فلاں ان کے نام لے کرانہیں آوازدی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ بھی دیکھ رہے تھے اورخودبادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہاتھااس مسلمان شہیدکے سرنے کہاسنوخداتعالی فرماتاہے ۔یاایھاالنفس المطمئنعہ ارجعی الی ربک راضیہ مرضیئہ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی۔اتناکہہ کروہ سرپھرپانی میں غوطہ لگاگیا،اس واقعہ کااتنااثرہواکہ قریب تھاکہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہوجاتے بادشاہ نے اسی وقت درباربرخاست کرادیااورتینوں پھرمسلمان ہوگئے اورہم سب یونہی قیدمیں رہے گاآخرخلیفہ ابوجعفرمنصورکی طرف سے ہمارافدیہ آگیااورہم نے نجات پائی۔
ابن عساکرمیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص سے کہا یہ دعاپڑھاکر۔اللھم انی اسئلک نفسابک مطمئینتہ نومن بلقائک وترضی بقضالک وتقنع بعطائک۔خدایامیں تجھ سے ایسانفس طلب کرتاہوں جوتیری ذات پراطمینان اوربھروسہ رکھتاہوتیری ملاقات پرایمان رکھتاہوتیری قضاپرراضی ہوتیرے دیئے ہوئے قناعت کرنے والاہو،سورت والفجرکی تفسیرختم ہوئی فاالحمداللہ۔

تبصرے (0)

سورۃ الفجرکی( تفسیرابن کثیر)(حصہ دوئم)

جلی وغیرہ نے بیان کیاہے کہ ایک اعرابی حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گم شدہ اونٹوں کوڈھونڈرہاتھاکہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کاایک شہر دیکھااوراس میں گیاگھوماپھرا،پھرلوگوں سے آکرذکرکیا، لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظرنہ آیا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کئے ہیں، یہ حکایت بھی صحیح نہیں اوراگریہ اعرابی والاقصہ سنداصحیح مان لیں توممکن ہے اسے ہوس اورخیال ہواوراپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جمالیاہواورخیالات کی پختگی اورعقل کی کم نے اسے یقین دلادیاہوکہ وہ صحیح طورپریہی دیکھ رہاہے اورفی الواقع یوں بھی ہو۔
ٹھیک اسی طرح جوجاہل حریص اورخیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اورقسم قسم کے جواہر یاقوت لؤ لؤاورموتی ہیں اکسیرکبیر ہے لیکن ایسے چند مواقع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھابیٹھاہے کسی جن کاپہرہ ہے وغیرہ، یہ سب فضول قصے اوربناوٹی باتیں ہیں، انہیں گھڑگھڑاکربے وقوفوں اورمال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لئے مکاروں نے مشہورکررکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی نجورکے بہانے سے، کبھی کسی اورطرح سے ان کے یہ مکارروپے وصول کرلیتے ہیں اوراپناپیٹ پالتے ہیں،ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین سے جاہلیت کایامسلمانوں کے زمانے کاکسی کاگاڑاہوامال نکل آئے تواس کاپتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتاہے، نہ وہاں کوئی مارگنج ہوتاہے نہ کوئی دیوبھوت جن پری جس طرح ان لوگوں نے مشہورکررکھاہے، یہ بالکل غیرصحیح ہے، یہ ایسے ہی لوگوں کی گھڑنت ہے یاان جیسے لوگوں سے سنی سنائی ہے اللہ سبحانہ وتعالی نیک سمجھ دے۔
امام ابن جریرنے بھی فرمایاہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مرادہواورممکن ہے شہرمرادہولیکن ٹھیک نہیں یہاں توصاف ظاہرہوتاہے کہ ایک قوم کاشہر ہے نہ کہ ذکرکااسی لئے اس کے بعدثمودیوں کاذکرکیاکہ وہ ثمودی جوپتھروں کاتراش لیاکرتے تھے، جیسے اورجگہ ہے۔وتنحتون من بیوتافارھین(سورت شعراء:149)یعنی تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیاکرتے تھے،اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں عربی شعربھی ہے۔ابن اسحاق فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے، وادی القری میں رہتے تھے،عادیوں کاقصہ پوراپوراسورت اعراف میں ہم بیان کرچکے ہیں اب اعادہ کی ضرورت نہیں پھرفرمایامیخوں والافرعون، اوتارکے معنی ابن عباس نے لشکروں کے کئے ہیں جو کہ اس کے کاموں کامضبوط کرتے رہتے تھے(تفسیرطبری۔409-24)یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑواکرمرواڈالتاتھا(تفسیرطبری۔409-24)چورنگ کرکے اوپرسے بڑاپتھرپھینکتاتھاجس سے اس کاکچومرنکل جاتاتھا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اورمیخوں سے اس کے سامنے کھیل کئے جاتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہوگئی تھیں لٹاکردونوں ہاتھوں اوردونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں، پھربڑاساچکی کاپتھران کی پیٹھ پر مارکرجان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔(حاکم۔523-2عن ابن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہاہے)
پھرفرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اورفسادی لوگ تھے لوگوں کوحقیر وذلیل جانتے تھے اورہرایک کوایذاپہنچاتے تھے۔ نیتجہ یہ ہوا کہ خداکے عذاب کاکوڑابرس پڑا، وبال آیاجوٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباداورتہس نہس ہوگئے۔ تیرارب گھات میں ہے ،دیکھ رہاہے ،سن رہاہے، سمجھ رہاہے، وقت مقررہ پرہربرے بھلے کو نیکی بدی کی جزاسزادے گا، یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہااس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اوروہ عدل وانصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گااورہرشخص کوپوراپورادے گاجس کاوہ مستحق تھا، وہ ظلم و جورسے پاک ہے۔
یہاں پریہ ابن ابی حاتم نے ایک حدیث واردکی ہے جوبہت غریب ہے جس کی سندمیں کلام ہے اورصحت میں بھی نظرہے،اس میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایااے معاذمومن حق کاقیدی ہے،اے معاذمومن تودغدغے میں ہی رہتاہے جب تک پل صراط سے پارنہ جائے۔ اے معاذمومن کوقرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھاہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے ،خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ،روزہ اس کی ڈھال ہے ،صدقہ اسکاچھٹکاراہے،سچائی اس کاامیرہے شرم اس کاوزیرہے اوراس کارب ان سب کے بعداس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیزنگاہوں سے اسے دیکھ رہاہے۔ اس کے راوی یونس خداء اورابوحمزہ مجہول ہیں، پھراس میں ارسال بھی ہے، ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کاکلام ہو۔ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہالوگوجہنم کے ساتھ پل ہیں ،ان سب پرپل صراط ہے پہلے ہی پل پرلوگ روکے جائے گے،یہاں نماز کاحساب کتاب ہوگا، یہاں سے نجات مل گئی تودوسرے پل پر روک ہوگی یہاں پر ایمانتداری کاسوال ہوگاجوامانت دارہوگااس نے نجات پائی اورجوخیانت والانکلاہلاک ہوا۔
تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہوگی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پاسکیں گے اورہلاک ہوں گے، رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجودہوں گی اوریہ کہہ رہی ہوں گی کہ خدایاجس نے مجھے جوڑاتواسے جوڑجس نے مجھے توڑاتواسے توڑ، یہی معنی ہیں ۔ ان ربک لبالمرصاد۔ یہ اثراتناہی پورانہیں۔
ترجمہ:۔انسان کایہ حال ہے کہ جب اس کارب آزمائے اورعزت ونعمت دے تو کہنے لگتاہے کہ میرے رب نے میرااکرام کیا۔اورجب اس کاامتحان لیتے ہوئے اس کی روزی تنگ کردے توکہنے لگتاہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی۔ایساہرگزنہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ اورمسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسروں کورغبت نہیں دیتے۔اورمردوں کی میراث سمیٹ سمیٹ کرکھاتے ہو۔اورمال کوجی بھرکرعزیزرکھتے ہو۔
وسعت رزق کواکرام نہ سمجھوبلکہ امتحان سمجھو۔٭٭(آیت نمبر:20-15)مطلب یہ ہے کہ جولوگ وسعت اورکشادگی پاکریوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ خدا نے ان پراکرام کیایہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے،جیسے کہ ایک اورجگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔ایحسبون انمانمدھم۔(سورت مومنون:55)۔یعنی مال و اولادکے بڑھ جانے کویہ لوگ نیکیوں کی بڑھوتری سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بے سمجھی ہے،اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگی ترشی کوانسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتاہے حالانکہ دراصل یہ بھی خداکی طرف سے آزمائش ہے اسی لئے یہاں۔کلا۔کہہ کران دونوں خیالات کی تردیدکی کہ یہ واقعہ نہیں جسے خدامال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اورجس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ دارومدارخوشی اورناخوشی کاان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے،غنی ہوکرشکرگذاری کرے تو خداکامحبوب اورفقیرہوکرصبرکرے تو اللہ کامحبوب۔
خدائے تعالی اس طرح اوراس طرح آزماتاہے پھریتیم کی عزت کرنے کاحکم ہے۔حدیث میں ہے کہ سب سے اچھاگھروہ ہے جس میں یتیم ہواوراس کی اچھی پرورش ہورہی ہواوربدترین گھروہ ہے جس میں یتیم ہواوراس سے بدسلوکی کی جاتی ہو،پھرآپ نے انگلی اٹھاکرفرمایامیں اوریتیم کاپالنے والاجنت میں اسی طرح ہوں گے یعنی قریب قریب۔(ابن ماجہ،کتاب الادب:باب حق الیتیم،ح 3679(ضعیف)اس کی سندمیں یحیی بن ابی سلیمان ضعیف راوی ہے۔
ابوداؤدکی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اوربیچ کی انگلی ملاکرانہیں دکھاکرآپ نے فرمایامیں اوریتیم کاپالنے والاجنت میں اس طرح ہوںگے۔(بخاری،کتاب الطلاق:باب اللعان،ح 5304،ابوداؤد،کتاب الادب:باب فی من ضم یتیما،ح5150)پھرفرمایاکہ یہ لوگ فقیروں مسکینوں کے ساتھ سلوک احسان کرنے انہیں کھاناپینادینے کی ایک دوسرے کورغبت و لالچ نہیں دلاتے اوریہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کامال حلال ہویاحرام ہضم کرجاتے ہیں اورمال کی محبت بھی ان میں بے طرح ہے۔
ترجمہ:۔یقینا ایک وقت زمین بالکل برابر پست کرکے بچھادی جائے گی۔اورتیرارب خود آجائے گااورفرشتے صفیں باندھ باندھ کرآجائیں گے۔اورجس دن جہنم بھی لائی جائے گی اس دن انسان عبرت حاصل کرلے گالیکن آج عبرت کافائدہ کہاں؟۔وہ کہے گاکہ کاش کہ میں اپنی اس زندگی کے لئے کچھ نیک اعمال بھیج دیتا۔پس آج اللہ کے عذابوں جیساعذاب کسی کانہ ہوگا۔ نہ اس کی قیدوبندجیسی کسی کی قیدوبندہوگی۔ اے اطمینان والی روح۔لوٹ چل اپنے رب کی طرف تواس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔پس میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا۔اورمیری جنت میں چلی جا۔

تبصرے (0)

سورۃ الفجرکی( تفسیرابن کثیر)(حصہ اول)

تفسیر سورت الفجر؛
شروع کرتاہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والاہے ۔

ترجمہ:۔قسم ہے فجر کی ۔ اوردس راتوں کی ۔ اورجفت اور طاق کی ۔ اوررات کی جب وہ چلنے لگے۔ کہ ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے؟۔ کیاتونے نہ دیکھاکہ تیرے رب نے عادیوں کے ساتھ کیاکیا۔ارم والے جو عادی جو بلندقامت تھے۔ جن جیسے لوگ دوسروں شہروں میں پیدانہیں کئے گئے۔ اورثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے۔ اورفرعون کے ساتھ جو میخوں والاتھا۔ ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھارکھاتھا۔ اوربہت فسادمچارکھاتھا۔ آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کاکوڑابرسایا۔ یقینا تیرارب گھات میں ہے۔
تفسیرسورت الفجر؛۔
نسائی شریف میں ہے کہ حضرت معاذ (رضی اللہ تعالی عنہ)نے نماز پڑھائی ایک شخص آیااورجماعت میں شامل ہوگیا، حضرت معاذ(رضی اللہ تعالی عنہ)نے نماز میں قرات لمبی کی ، اس نے مسجدکے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی پھرفارغ ہوکرچلاگیا۔ حضرت معاذ(رضی اللہ تعالی عنہ)کوبھی یہ واقعہ معلوم ہواتوآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی خدمت میں آکربطورشکایت یہ واقعہ بیان کیاآپ نے اس جوان کو بلاکرپوچھاتواس نے کہاحضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں کیاکرتامیں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہاتھاانہوں نے لمبی قرات شروع کی تومیں گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھراپنی اونٹنی کوچارہ ڈالاآپ نے فرمایااے معاذ کیاتوفتنے میں ڈالنے والاہے توان سورتوں سے کہاں ہے؟سبح اسم ربک الاعلی والشمس وضحاھا،والفجر،واللیل اذایغشی۔(نسائی فی الکبری(۶۔۵۵)(صحیح)
شفع اوروترسے کیامرادہے اورقوم عادکاقصہ؛٭٭(آیت :۱۔۱۴)فجرتوہرشخص جانتاہے یعنی صبح اوریہ مطلب یہی ہے کہ بقرہ عیدکے دن کی صبح اوریہ مرادبھی ہے صبح کے وقت کی نمازاورپورادن اوردس راتوں سے مرادذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں،(تفسیرطبری(۲۴۔۳۹۶)چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں، لوگوں نے پوچھااللہ کی راہ کاجہادبھی نہیں؟ فرمایایہ بھی نہیں،مگروہ شخص جوجان مال لے کرنکلااورپھرکچھ بھی ساتھ لے کرنہ پلٹا(بخاری،کتاب العیدین:باب فصل العمل فی ایام تشریق،ح۹۶۹)بعض نے کہاہے محرم کے پہلے دس دن مرادہیں۔
حضرت ابن عباس(رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے کے دن دن، لیکن صحیح قول پہلاہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں مسنداحمدمیں ہے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) فرماتے ہیں کہ عشرسے مراد عیدالاضحی کے دس دن ہیں اور وترسے مرادعرفے کادن ہے اورشفع سے مرادقربانی کادن ہے۔(احمد(۳!۳۲۷)(۲۲!۳۸۸)حسن۔ اس کی اسنادمیں توکوئی مضائقہ نہیں لیکن متن میں نکارت ہے واللہ اعلم۔ وترسے مرادعرفے کادن یہ نویں تاریخ ہوتی ہے تو شفع سے مراددسویں تاریخ یعنی بقرہ عیدکادن ہے،وہ طاق ہے یہ جفت ہے۔حضرت واصل بن سائب نے حضرت عطاء سے پوچھاکہ وترسے مرادیہی وترنمازہے؟آپ نے فرمایانہیں،شفع عرفہ کادن ہے اوروترعیدالاضحی کی رات ہے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کرپوچھاکہ شفع کیاہے اوروترکیاہے؟آپ نے فرمایا۔فمن تعجل فی یومین۔(سور ت بقرہ۔۲۰۳)میں جودودن کاذکرہے وہ شفع ہے اورمن تاخرمیں جوایک دن ہے وہ وترہے،آپ نے یہ بھی فرمایاکہ ایام تشریق کادرمیانی دن شفع ہے اورآخری وترہے۔
صحیحین کی حدیث میں ہے اللہ تعالی کے ایک کم ایک سونام ہیں جوانہیں یادکرلے جنتی ہے ، وہ وترہے وترکادوست رکھتاہے۔(بخاری ،کتاب الدعوات :باب للب مائۃ اسم غیرواحدت،ح۶۴۱۰،مسلم،کتاب الذکرالدعاء: باب فی اسماء اللہ تعالی و فضل من احصاھا،ح،۲۶۷۷)زیدبن اسلم فرماتے ہیں اس سے مرادتمام مخلوق ہے ،اس میں شفع بھی ہے اوروتربھی۔ یہ بھی کہاگیاہے کہ مخلوق شفع اوراللہ وترہے،یہ بھی کہاگیاہے کہ شفع صبح کی نماز اوروترمغرب کی نماز ہے۔ یہ بھی کہاگیاہے کہ شفع سے مرادجوڑتوڑاوروترسے مراداللہ عزوجل، جیسے آسمان زمین، تری خشکی، جن انس، سورج چاندوغیرہ۔ قرآن میں ہے ۔ومن کل شیء خلقنازوجین لعلکم تذکرون۔(سورت ذرایات:۴۹)ہم نے ہرچیزکوجوڑجوڑپیداکیاہے تاکہ تم عبرت حاصل کرلویعنی جان لوکہ ان تمام چیزوں کاخالق اللہ واحدہے جس کاکوئی شریک نہیں، یہ بھی کہاگیاہے اس سے مرادگنتی ہے جس میں جفت بھی ہے اورطاق بھی ہے۔ ایک حدیث میں شفع سے مراددودن اوروترسے مرادتیسرادن ۔ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف ہے جواس سے پہلے گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مرادنمازہے کہ اس میں شفع ہے جیسے صبح کی دوظہر، عصراورعشاء کی چاراوروترہے جیسے مغرب کی تین رکعتیں جودن کے وترہیں اوراسی طرح آخری رات کاوتر، ایک مرفوع حدیث میں مطلق نماز کے لفظ کے ساتھ مروی ہے،بعض صحابہ سے فرض نماز مروی ہے۔(ترمذی ، کتاب تفسیرالقرآن :باب ومن سورت الفجر،ح ۳۳۴۲(ضعیف اس کی سندمیں ایک راوی مجہول ہے)۔لیکن یہ مرفوع حدیث زیادہ ٹھیک یہی معلوم ہوتاہے کہ حضرت عمران بن حصین پرموقوف ہے واللہ اعلم۔
امام ابن جریرنے ان آٹھ نواقوال میں سے کسی کوفیصل قرارنہیں دیا۔ پھرفرماتاہے رات کی قسم جب جانے لگے اوریہ معنی کئے گئے کہ جب آنے لگے(تفسیرطبری(401/24)بلکہ یہی معنی زیادہ مناسب اوروالفجرسے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں فجرکہتے ہیں رات کے جانے کو اوردن کے آنے تویہاں رات کاآنااوردن کاجانامراد ہوگاجیسے ۔ واللیل اذاعسعس والصبح اذاتنفس(سورت تکویر:18:17)میں عکرمہ فرماتے ہیں مرادمزدلفہ کی رات ہے۔حجرسے مرادعقل ہے ، حجرکہتے ہیں روک کوچونکہ عقل بھی غلط کاریوں اورجھوٹی باتوں سے روک دیتی ہے اس لئے اسے عقل کہتے ہیں،حطیم کوبھی حجرالبیست اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ طواف کو کعبۃ اللہ کی شامی دیوارسے روک دیتاہے،اسی سے ماخوذہے حجریمانہ اوراسی لئے عرب کہتے ہیں ۔ حجرالحاکم علی فلاں،جبکہ کسی شخص کوبادشاہ تصرف سے روک دے اور کہتے ہیںکہ ۔حجرامحجورا(سورت فرقان۔22)توفرماتاہے ان میں عقل مندوں کے لئے قابل عبرت قسم ہے، کہیں توقسمیں ہیں عبادتوں کی، کہیں عبادت کے وقتوں کی جیسے حج نماز وغیرہ کہ جن سے اس کے نیک بندے اس کاقرب اوراسکی نزدیکی حاصل کرتے ہیں اوراس کے سامنے اپنی پستی اورخودفراموشی ظاہرکرتے ہیں، جب ان پرہیزگارنیک کارلوگوں کااوران کی عاجزی اورتواضع کاخشوع خضوع کاذکرکیاتواب ان کے ساتھ ہی ان کے خلاف جو سرکش اوربدکارلوگ ہیں ان کاذکرہورہاہے، توفرماتاہے کہ کیاتم نے نہ دیکھاکہ کس طرح اللہ تعالی نے عادیوں کوغارت کردیاجوکہ سرکش اورمتکبرتھے،اللہ کی نافرمانی، رسول کی تکذیب اوربدیوں پرجھک پڑے تھے۔ ان میں خدا کے رسول حضرت ہودعلیہ السلام آئے تھے، یہ عاداعالی ہیں جوعادین ارم بن سام بن نوح کی اولادمیں تھے، اللہ تعالی نے ان میں سے ایماندارکوتونجات دے دی اورباقی بے ایمانوں کوتیزوتندخوفناک اورہلاک آفریں ہواؤں سے ہلاک کیا، سات راتیں اورآٹھ دن تک یہ غضب ناک آندھی چلتی رہی اورسارے کے سارے اس طرح غارت ہوگئے کہ ان کے سرالگ تھے اوردھڑالگ تھے، ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا،جس کامفصل بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔
سورئ الحاقہ میں بھی بیان ہے ۔ ارم ذات العماد۔یہ عاد کی تفسیربطورعطف بیان کے لئے تاکہ بخوبی وضاحت ہوجائے یہ لوگ مضبوط اوربلندستونوں والے گھروں میں رہتے تھے اوراپنے زمانے کے اورلوگوں سے بہت بڑے تن وتوش والے قوت و طاقت والے تھے اسی لئے حضرت ہودعلیہ السلام نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایاتھا۔واذکرواذجعلکم خلفائ(سورت اعراف :69)۔یعنی یاد کروکہ خدائے تعالی نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پرخلیفہ بنایاہے اورتمہیں جسمانی کشادگی پوری دی ، تمہیں چاہیے کہ خداکی نعمتوں کویادکرواورزمین میں فسادی بن کرنہ رہو۔اورجگہ ہے کہ عادیوں نے ناحق زمین میں سرکشی کی اوربول اٹھے کہ ہم سے زیادہ قوت والا اورکون ہے؟ کیاوہ بھول گئے کہ ان کاپیداکرنے والاان سے بہت ہی زبردست طاقت و قوت والاہے۔
یہاں بھی ارشادہوتاہے کہ اس قبیلے جیسے طاقتوراورشہروں میں نہ تھے، بڑی طویل القامت قوی الجثہ ارم ان کادارالسلطنت تھا، انہیں ستونوں والے کہاجاتاتھااس لئے بھی کہ یہ لوگ بہت درازقدتھے بلکہ صحیح وجہ یہی ہے مثلھا۔ کی ضمیرکامرجع عمادبتلایاگیاہے،ان جیسے اورشہروں میں نہ تھے،یہ احقاف میں بنے ہوئے لمبے لمبے ستون تھے اوربعض نے ضمیرکامرجع قبیلہ بتلایاہے یعنی اس قبیلے جیسے لوگ اورشہروں میں نہ تھے اوریہی قول ٹھیک ہے اوراگلاقول ضعیف ہے اسی لئے بھی کہ یہی مرادہوتی تو۔لم یجعل۔کہاجاتانہ کہ ۔لم یخلق۔ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) فرماتے ہیں ان میں اس قدرزوروطاقت تھی کہ ان میں کوئی اٹھتااورایک بڑی چٹان لے کرکسی قبیلے پر پھینک دیتاتوبیچارے سب کے سب دب کرمرجاتے۔
حضرت ثوربن زیدویلی فرماتے ہیں میںنے ایک ورق پرلکھاہوایہ پڑھاہے کہ میں شدادبن عادہوں، میں نے ستون بلندکئے ہیں، میں نے ہاتھ مضبوط کئے ہیں، میں نے سات ذراع کے خزانے جمع کئے ہیں جو امت محمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نکالے گی، غرض خواہ یوں کہو کہ وہ عمدہ اونچے اورمضبوط مکانوں والے تھے خواہ یوں کہوکہ وہ بلند و بالاستونوں والے تھے یایوں کہوکہ وہ بہترین ہتھیاروں والے تھے یایوں کہولمبے لمبے قدوالے تھے، مطلب یہ ہے کہ ایک قوم تھی جن کاذکرقرآن کریم میں کئی جگہ ثمودیوں کے ساتھ آچکاہے، یہاں بھی اسی طرح عادیوں اور ثمودیوں کادونوں کاذکرہے واللہ اعلم۔
بعض حضرات نے یہ بھی کہ کہ ۔ارم ذات العماد۔ایک شہرہے یاتودمشق یااسکندریہ لیکن یہ قول ٹھیک نہیں معلوم ہوتااس لئے کہ عبارت کاٹھیک مطلب نہیں بنتاکیونکہ یاتویہ بدل ہوسکتاہے یاعطف بیان، دوسرے اس لئے بھی کہ یہاں یہ بیان مقصودہے کہ ہرایک سرکش قبیلے کوخدانے بربادکیاجن کانام عادی تھانہ کہ کسی شہرکو،میں نے اس بات کویہاں اس لئے بیان کردیاتاکہ جن مفسرین کی جماعت نے یہاں یہ تفسیرکی ہے ان سے کوئی شخص دھوکے میں نہ پڑجائے، وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک شہرکانام ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی ہے دوسری چاندی کی ،اس کے مکانات باغات محلے وغیرہ سب چاندی سونے کے ہیں،کنکرلؤلؤاورجواہرہیں، مٹی مشک ہے ،نہریں بہہ رہی ہیں، پھل تیارہیں، کوئی رہنے سہنے والانہیں، درودیوارخالی ہیں، کوئی ہاں ہوں کرنے والابھی نہیں، یہ شہر منتقل ہوتارہتاہے کبھی شام میں کبھی یمن میں کبھی عراق میں کبھی کہیں کبھی کہیںوغیرہ۔ یہ سب خرافات بنواسرائیل کی ہیں، ان کے بدینوں نے یہ گھڑنٹ گھڑی ہے تاکہ جاہلوں میں باتیں بنائیں۔

تبصرے (0)

بھیک مانگنے کے نئے نئے طریقے

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

آج رات عشاء کی نماز کے بعد میں وآپس دکان کی طرف آرہاتھاکہ ایک آدمی نے جوکہ ایک گاڑی میں بیٹھاہواتھااس نے ہاتھـ اٹھایااورمجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ میں نے سوچاکہ شایدکے یہ آدمی راستہ بھول گیاہے یاکچھـ پوچھناچاہتاہے میں رک گیاتواسکی گاڑی میں اسکی پوری فیملی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے اپنامدعابیان کیاکہ میں عربی اچھی طرف سمجھـ سکتاہوں کہ نہیں میں نے کہاکہ کوئی مسئلہ نہیں ہےآپ بتاؤکہ کیابات ہے؟ اس نے کہناشروع کیاکہ میں ریاض سے آیاہوں یہاں مدینہ میں لیکن کسی نے میری جیب کاٹ لی ہے آپ براہ مہربانی کوئی مدد کریں میں نے کہا کہ معاف کرو بھائی، کیونکہ ایساہی ایک واقع میرے ساتھـ پہلے ہوچکاہے کہ میں نے اس بندہ کوبیس ریال دئیے کہ اس سے پٹرول بھرا کرریاض چلے جاؤ لیکن اس نے تھوڑا ساآگے جاکرپھروہی کام شروع کردیا۔ مجھے بڑا غصہ آیامیں نے اس کو بہت بولااورسپاہی کی دھمکی دی تووہ نودوگیارہ ہوگیا۔ تواب یہ حالت ہوگئی ہے ہم مسلمانوں کی مانگنے کے لئے بھی گاڑیوں پرسوارہوکرساتھـ فیملی کے ساتھـ آتے ہیں اوردن بھرمیں کم ازکم دوتین ہزارکی دھاڑی لگاتے ہیں۔ جبکہ واضح حدیث (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہاتھـ کے نیچے والے سے اوپروالاہاتھـ بہترہے نیچے والاہاتھـ مانگنے والااوراوپروالاہاتھـ دینے والاہے۔
اللہ تعالی ہم پراپناکرم کرے اورہم کوسچامسلمان بنائے (آمین ثم آمین)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (0)

November 26, 2008

غــزل

غزل
کچھـ لوگ پیارکی سزادیتے ہیں
محبوب کولگاکرزخم پھرادادیتے ہیں
زبان سے خوب محبت محبت کہتے ہیں یہ
لیکن محبوب کومحبت کی سزادیتے ہیں
الجھاکراپنی باتوں کے جال میں وہ اکثر
کہتے ہیں کہ ہم اپنی محبت کاحق اداکرتے ہیں
کرکے رسوازمانے بھرمیںمحبوب کواپنے
لبوں سے اپنےمحبت محبت کی صدادیتے ہیں
جاویداقبال

تبصرے (2)

October 18, 2007

بے نظیربھٹوکی وطن واپسی:۔

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

بے نظیربھٹوکی وطن واپسی:۔
بے نظیربھٹوآٹھ سال کی خودساختہ جلاوطنی کاٹ کرآج مورخہ 18/10/2007 کوکراچی کے قائداعظم ائیرپورٹ پراتری ہیں۔ انکابے مثال استقبال ہوا۔اس کااندازہ بی بی سی کی اس خبرسے لگائیں کے وہ ایک گھنٹے میں ایئرپورٹ سے باہرنکلی ہیں۔
میں اگراپنے ملک کے ماضی پرنظریں ڈوراؤں توملک میں بہت کچھ تبدیل ہواہے لیکن ایک بات جوکہ آج بھی پیپلزپارٹی کی فیورمیں جاتی ہے کہ اسکاووٹ اسکارکن آج بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتاہے جبکہ اسکی قیادت ذوالفقارعلی بھٹوکے بعدسے آج تک کبھی بھی اس سے مخلص نہ ہوئی لیکن وہ آج بھی اس پارٹی کے لئے اپنی جان کو ہتھیلی میں لئے نکلتاہے۔بی بی نے بہت سی سیاسی غلطیاں کیں ہیں جن میں امریکہ کی حددرجہ وفاداری، ڈاکٹرعبدالقدیرکے خلاف بیانات، اٹیمی پروگرام کے رول بیک کاشناسہ وغیرہ لیکن اسکاووٹ بینک کم نہ ہوا۔جبکہ آج بے نظیرکی وطن واپسی بھی امریکہ ڈھیل کاہی نتیجہ ہے۔ اب دیکھیں کہ ملک میں کیاسیاسی کھچڑی تیارہوتی ہے ایک طرف تومشرف صدربننے کے لئے ہرکچھ کرنے کے لئے تیارہیں دوسری طرف انکے خلاف کیس چل رہے ہیں دیکھیں کیاہوتاہے لیکن ہماری تواللہ تعالی سے دعاہے کہ جوبھی ہوملک کی بہتری کے لئے ہو(آمین)
آج تک ملک میں جوبھی حکمران بنااس نے اس کواپنی ملک کو اپنی ملکیت سمجھ لیاہے اورجیسے چاہااسکے عوام کو استعمال کیالیکن اس میں زیادہ ترقصورتوعوام کاہی ہے کیونکہ وہ پہلے پہل اس کو آنکھوں پر بٹھاتے ہیں پھراسکواسطرح فراموش کرتے ہیں کہ داستان بھی نہ ہوگی داستان والوں میں۔ہم نے اپنے آپ کو ایک قوم کے پہچاناہی نہیں اورسیاستدانوں اورفوجی حکمرانوں نے بھی ہم کو اپنے اپنے مقاصدکے لئے استعمال کیا۔کسی نے بھی ہم کواکٹھاکرناگوارانہ کیااسکی کئی مثالیں ہیں ۔ ایک تازہ مثال تویہی بے نظیرکایہ بیان ہے کہ “پنجاب کے وزیراعظم کومعافی اورسندھ کے وزیراعظم کو پھانسی”۔ یہ کسی بھی طرح ایک پاکستانی ہونے کاثبوت نہیں ہے یہ زبان توایک عام پاکستانی بھی نہیں بولتاجوایک پارٹی جوکہ غریبوں کی پارٹی ہے اسکی لیڈرکی آوازہے۔
اس میں سب سے زیادہ قصورہماراہے ہم لوگ شخصیت کی پوجاکرتے ہیں۔ ہم لیڈرکوبہت اہمیت دیتے ہیں کہ وہ جوبھی کرتاہے ٹھیک کرتاہے کبھی اس کی بات کوخودتجزیہ نہیں کرتے کہ اس نے بات غلط کی ہے کہ صحیح۔
میں نے یہ کچھ باتیں سوچی اور آپ لوگوں سے شیئرکی ہیں مجھے براہ مہربانی بتائیں کہ آپکی اس سلسلے میں کیارائے ہے کہ ہم کوخودسے بھی کچھ سوچناچاہیے کہ جوبھی لیڈرحکمران، ہمارے ساتھ کردیں وہ ہی ٹھیک ہے؟اس ملک کاہم پرقرض ہے کہ ہم اس کی فلاح و بہبوداورترقی کے لئے آگےبڑھیں اورکچھ نہ کچھ اس ملک کی ترقی کے لئے کریں۔

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (2)

October 17, 2007

سورہ فیل (تفسیرابن کثیر)

سورہ فیل:۔
اللہ تعالی بخشش کرنے والے مہربانی کرنے والے کے نام سے شروع۔
کیاتو نے نہ دیکھاکہ تیرے رب نے ہاتھی والے کے ساتھ کیاکیا؟(1)کیاان کے مکرکوبیکارنہیں کردیا(2)اوران پر پرندوں کے جھرمٹ بھیج دیئے(3)جوانہیں مٹی اورپتھرکی کنکریاں ماررہے تھے(4)پس انہیں کھائي ہوئی بھوسی کردیا(5)
ابرہہ اوراس کاحشر:۔(آیت 1-5) اللہ رب العزت نے قریش پرجواپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کاذکرکررہاہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کوساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لئے چڑھائی کی تھی، خدائے تعالی نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں انکانام و نشان مٹادیا، ان کی تمام فریب کاریاں،ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں، بربادوغارت کردیا، یہ لوگ مذہبا‍ نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیاتھا،قریب بت پرست ہوگئے تھے، انہیں اس طرح نامرادکرنایہ گویاپیش خیمہ تھاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کی بعثت کااوراطلاع تھی کہ آپ کی آمدآمدکی۔ حضورعلیہ السلام اسی سال تولدہوئے اکثرتاریخ داں حضرات کایہی قول ہے توگویاخدائے عالم فرمارہاہے کہ اے قریشیوحبشہ کے اس لشکرپرتمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سےنہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے دین کابچاؤتھاجسے ہم شرف بزرگی عظمت وعزت میں اپنے آخرالزماں پیغمبرحضرت محمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔
غرض اصحاب فیل کا مختصرواقعہ تویہ ہے کہ جوبیان ہوااورمطول واقعہ اصحاب الاخدودکے بیان میں گذرچکاہے قبیلہ حمیرکاآخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا،جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیاتھاجوسچے نصرانی تھے اور تعدادمیں بیس ہزارتھےسارے کے سارے ہی شہیدکردیئے گئے تھے، صرف دوس ذوثعلبان ایک بچ گیاتھاجوملک شام جاپہنچااوقیصرروم سے فریادرسی چاہی۔یہ بادشاہ نصرانی مذاہب پرتھا، اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو لکھاکہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کردو اس لئے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا، اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیرلشکربناکربہت بڑالشکردے کر دونوں کواس کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا،یہ لشکریمن پہنچااوریمن کو اوریمنیوں کوتاخت وتاراج کردیا، ذنواس بھاگ کھڑاہوا اور دریامیں ڈوب کر مرگیااوران لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہوگیااورسارے یمن پر شاہ حبشہ کاقبضہ ہوگیااوریہ دونوں سرداریہاں رہنے سہنے لگے لیکن تھوڑی ہی مدت کے بعدان میں ناچاقی ہوگئی،آخرنوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لئے نکل آئے، عام حملہ ہواس سے پیشتران دونوں سرداروں نے آپس میں کہاکہ فوجوں کولڑانے اورلوگوں کو قتل کرانے کی کیاضرورت ، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اورایک دوسرے سے لڑکرفیصلہ کرلیں، جوبچ جائے ملک وفوج اسی کی ، چنانچہ یہ بات طے ہوگئی اور دونوں میدان میں نکل آئے، ارباط نے ابرہہ پرحملہ کیااورتلوارکے ایک ہی وارسے چہرہ خوناخون کردیا،ناک ہونٹ اورمنہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ اس موقعہ پر ارباط پرایک بے پناہ حملہ اوراسے قتل کردیا۔ابرہہ زخمی ہوکرمیدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھےہوگئے اور یمن کا مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔نجاشی حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہواتووہ سخت غصہ ہوااورایک خط ابرہہ کولکھا،اسے بڑی لعنت ملامت کی اورکہاکہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کوپامال کروں گا۔ اورتیری چوٹی کاٹ لاؤں گا،ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھااورقاصدکوبہت سارے ہدیئے دے اورایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھردی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دے اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اورلکھاکہ یہ یمن کی مٹی حاضرہے اورمٹی چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اورناراضی معاف فرمائیے، اس سے شاہ حبشہ خوش ہوگیااوریہاں کی سرداری اسی کے نام کردی۔ اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھامیں یہاں یمن میں آپ کے لئے ایک گرجاتعمیرکررہاہوں کہ اب تک دنیامیں ایسانہ ہواوراس گرجاگھرکابناشروع کیا۔
بڑے اہتمام اورکروفرسے بہت اونچابہت مضبوط بے حدخوبصورت اورمنقش ومزین گرجابنایا،اس قدربلندتھاکہ چوٹی تک نظرڈالنے والے کی ٹوپی گرپڑتی تھی،اسی لئے عرب اس قلیس کہتے تھے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا،اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کے لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرادی۔عدنانیہ اورقحطانیہ عرب کو یہ بہت برالگا،ادھرسے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندرگھس گیااوروہاں پاخانہ کرکے چلاآیا،چوکیدارنے جب یہ دیکھاتوبادشاہ کو خبرپہنچائی اورکہاکہ یہ کام قریشیوں کاہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیاہے لہذاانہوں نے جوش اورغضب میں آکریہ حرکت کی ہے، ابرہہ نے اس وقت قسم کھالی کہ میں مکہ پہنچوں گااوربیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چندمن چلے جوان قریشیوں نے اس گرجامیں آگ لگادی تھی اور اس وقت ہوابھی بہت تیزتھی،ساراگرجاجل گیااورمنہ کے بل زمین پرگرگیا،اس پر ابرہہ نے بہت بڑالشکرساتھ لے کرمکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک اونچااورموٹاہاتھی لیاجسے محمودکہاجاتاتھاجس جیساہاتھی اورکوئی نہ تھا۔شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجاتھا،آٹھ یابارہ اورہاتھی اوربھی ساتھ تھے یہ کعبے کو ڈھانے کی نیت سے چلا،یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گااورہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کوباندھ دوں گا۔ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑسے گرادیں گے،جب عرب کویہ خبریں معلوم ہوئیں توان پر بڑا بھاری اثرپڑااورانہوں نے مصمم ارادہ کرلیاکہ خواہ کچھ ہی ہو، ہم ضروراس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکيں گے۔ ایک یمنی شریف سردارجوں کے باشاہوں کی اولادمیں سے تھاجسے ذونقرکہاجاتاتھایہ کھڑاہوگیا،اپنی قوم کواورآس پاس کے عرب کوجمع کیااوراس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیالیکن قدرت کوکچھ اورہی منظورتھا،عربوں کو شکست ہوئی اورذونفراس خبیث کے ہاتھ میں قیدہوگیااس نے اسے بھی ساتھ لیااورمکہ شریف کی طرف بڑھا،خثعم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچاتویہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیالیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کرلیااورنفیل بھی قیدہوگیاپہلے تواس ظالم نے اسے قتل کرناچاہالیکن لیکن پھرقتل نہ کیااورقیدکرکے ساتھ لے لیاکہ راستہ بتائے، جب طائف کے قریب پہنچاتوقبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کرلی کہ ایسانہ ہوانکے بت خانوں کوجس میں لات نامی بت تھایہ توڑدے، اس نے بھی انکی بڑی آؤبھگت کی۔انہوں نے ابورغال کے اس کے ساتھ کردیاکہ یہ تمہیں وہاں کاراستہ بتائے گا،ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے قریب پہنچاتواس نے یہاں پڑاؤکیا،اس کے لشکرنے آس پاس مکہ والوں کے جوجانوراونٹ وغیرچر چگ رہے تھے سب کواپنے قبضہ میں کیا، ان جانوروں میں دوسواونٹ توصرف عبدالمطلب کے تھے، اسودبن معضودجواسکے لشکرکے ہراول کاسردارتھااس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کولوٹاتھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کے ہجومیں اشعارتصنیف کئے ہوئے ہیں جوسیر‏ہ ابن اسحاق میں موجودہیں۔اب ابرہہ نے اپناقاصدضاطب حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجاکہ مکہ کے سب سے بڑے سردارکومیرے پا‎س لاؤاوریہ بھی اعلان کردوکہ میں مکہ والوں سے لڑنے کونہیں آیا، میراارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کاہے ہاں اگرمکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تولامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی ضاطہ جب مکہ میں آیااورلوگوں سے ملاجلاتومعلوم ہواکہ یہاں کابڑا سردارعبدالمطلب بن ہاشم ہے،یہ عبدالمطلب سے ملااورشاہی پیغام پہنچایاجس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہاواللہ نہ ہماراارادہ اس سے لڑنے کاہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کاحرمت والاہے گھرہے،اس کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگارہے،اللہ اگرچاہے گاتواپنے گھرکی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں توہمت وقوت نہیں۔ ضاطہ نے کہااچھاتوآپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئے، عبدالمطلب ساتھ ہوئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھاتوہیبت میں آگیا، عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اورمضبوط قوی والے حسین وجمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اترآیااورفرش پرعبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیااوراپنے ترجمان سے کہاان سے پوچھ کہ کیاچاہتاہے؟ عبدالمطلب نے کہامیرے دوسواونٹ جوبادشاہ نے لے لئے ہیں انہیں واپس کردیاجائے، بادشاہ نے کہاان سے کہہ کہ پہلی نظرمیں تیرارعب مجھ پر جوپڑاتھااورمیرے دل میں تیری دہشت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تونے سب کچھ کھودی، اپنے دو سواونٹ کی توتجھے فکرہے اوراپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکرنہیں، میں توتم لوگوں کاعبادت خانہ توڑنے اور خاک میں ملانے کے لئے آیاہوں، عبدالمطلب نے جواب دیاکہ سن بادشاہ اونٹ تومیرے ہیں اسلئے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ خداکاہے وہ خوداسے بچالے گـا،اس پر یہ سرکش کہنےلگاکہ خدابھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچاسکتا،عبدالمطلب نے کہابہترہے وہ جانے اورتوجان، یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجازکاتہائی مال ابرہہ کودیناچاہاکہ وہ اپنے اس بدارادہ سے باز آئےلیکن اس نے قبول نہ کیا، خیرعبدالمطلب تواپنے اونٹ لے کرچل دیئے اورآکرقریش کو حکم دیاکہ مکہ بالکل خالی کردو،بہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کربیت اللہ میں آیااوربیت اللہ کے دروازہ کاکنڈاتھام کرروروکراورگڑگڑاگڑگڑاکردعا‏ئیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالی ابرہہ اوراس کے خونخوارلشکرسے اپنے پاک اورذی عزت گھرکوبچالے، عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعا‏ئیہ اشعارپڑھے۔
لا ھم ان المرایم نع رحلہ فامنع رحالک لایغلبن صلیبھم ومحالھم ابدا مخالک
یعنی ہم بے فکرہیں ہم جانتے ہیں کہ ہرگھروالااپنے گھرکابچاؤ کرتاہے خدایاتوبھی اپنے گھرکواپنے دشمنوں سے بچا،یہ تو ہرگزنہین ہوسکتاکہ انکی صلیب اورانکی ڈولیں تیری ڈولوں پرغالب آجائیں۔
اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کاکنڈاہاتھ سے چھوڑدیااوراپنے تمام ساتھیوں کولے کرآس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پرچڑھ گیا،یہ بھی مذکورہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سواونٹ بیت اللہ کے اردگردنشان لگاکرچھوڑدیئے تھے اس نیت سے کہ اگریہ بددین آئے اورانہوں نے خداکے نام کی قربانی کے ان جانوروں کوچھیڑاتوعذاب خداان پر اترے گا،دوسری صبح ابرہہ کے لشکرمیں مکہ میں جانے کی تیاریاں ہونے لگیں، اپناخاص ہاتھی جس کانام محمودتھااسے تیارکیا،لشکرمیں کمربندی ہوچکی اورمکہ شریف کی طرف منہ اٹھاکرچلنے کی تیاری کی۔اس وقت نفیل بن حبیب جواس راتسے میں لڑاتھااوراب بطورقیدی کے اس کے ساتھ تھاوہ آگے بڑھااورشاہی ہاتھی کاکان پکڑلیااورکہامحمودبیٹھ جااورجہاں سے آیاہے وہیں خریت سے کےساتھ چلاجا،توخدائے تعالی کے محترم شہرمیں ہے یہ کہہ کرکان چھوڑدیااوربھاگ کر قریب کی پہاڑمیں جاچھپا،محمودہاتھ یہ سنتے ہی بیٹھ گيا،اب ہزارجتن فیل بان کررہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہمستاہی نہیں سرپرانکس ماررہے ہیں ادھرادھرسے بھالے اوربرچھےماررہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کرلئے لیکن ہاتھ جنبش بھی پھربطورامتحان کے اس کامنہ یمن کی طرف کرکے جلاناچاہاتوجھٹ سے کھڑاہوکردوڑتاہواچل دیا، شام کی طرف چلاناچاہاتوپوری طاقت سے آگے بڑھ گیا،مشرق کی طرف لے جاناچاہاتوبھابھاگاگیا،پھرمکہ شریف کی طرف منہ کرکے آگے بڑھاناچاہاوہیں بیٹھ گیا،انہوں نے اسے مارناپیٹناشروع کیاکہ دیکھاکہ اکی گھٹاٹوپ پرندوں کاجھرمٹ بادل کی طرف سمندرکے کنارے کی طرف سے امڈاچلاآرہاہے ،ابھی پوری طرح دیکھنابھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانورسرپرآگئے چوطرف سے سارے لشکرکوگھیرلیا۔ان میں سے ہرایک چونچ میں ایک مسوریاماش کے دانے برابرکنکری تھی اوردونوں پنجوں میں دودوکنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے،جس جس پر کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہوگیااب تولشکرمیں بھاگڑپڑگئی ہرایک نفیل نفیل کرنے لگاکیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنارہبراورراستہ بتانے والاسمجھ رکھاتھا،نفیل تو ہاتھی کوکہہ کرپہاڑپرچڑھ گیااوردیگراہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑایہ شعرپڑھ رہاتھا۔
ابن المفروالالہ الطالب والاشرم المغلوب لیس الغالب
اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ خداخودتاک میں لگ گیاہے۔سنواشرم بدبخت مغلوب ہوگیااب یہ پنپنے کانہیں اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعارکہے ہیں جن میں اس قصہ کوبیان کیاہے اورکہاکہ کاش تواس وقت موجودہوتاجبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی اوروادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تواس وقت تواس خدائی لشکریعنی پرندوں کودیکھ کرقطعا‍سجدے میں گرپڑتا،ہم تووہاں کھڑے حمدخداکی راگنیاں الاپ رہے تھے،گوکلیجے ہمارے بھی اونچے ہوگئے تھے کہیں کوئی کنکری ہماراکام بھی تمام نہ کردے،نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اورنفیل نفیل پکاررہے تھے گویانفیل پران کے باپ دادوں کاکوئی قرض تھا،واقدی فرماتے ہیں یہ پرندزردرنگ تھے،کبوترسے کچھ چھوٹے تھے،ان کے پاؤ ں سرخ تھے۔اورروایت میں ہے کہ جب محمودہاتھی بیٹھ گیااورپوری کوشش کے باوجودبھی نہ اٹھاتوانہوں نے دوسری ہاتھی کوآگے کیااس نے قدم بڑھایاہی تھاکہ اسکی کمرپرکنکری پڑی اوربلبلاکہ پیچھے ہٹااورپھراورہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئےاورادھربرابرکنکریاں آنے لگیں ،اکثرتووہیں ڈھیرہوگئے اور بعض جو ادھرادھربھاگ نکلے تھے ان میں سے بھی کوئی جاں برنہ ہوا، بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اوربالآخرجان سے جاتے تھے، ابرہہ بادشاہ بھی بھاگالیکن ایک ایک عضوبدن سے جھڑناشروع ہوایہاں تک خثعم کے شہروں میں سے صنعامیں جب وہ پہنچاتوبالکل گوشت کالوتھڑابناہواتھا،وہیں بلک بلک کردم توڑااورکتے کی موت مرا،دل تک پھٹ گیاتھاقریشیوں کوبڑامال ہاتھ لگا،عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پرکرلیاتھا،زمین عرب میں آہلہ اورچیچک اسی سال پیداہوتے ہوئے دیکھے گئے اوراسی طرح سپنداورحتطل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے تھے،پس اللہ تعالہ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی یہ نعمت یاددلاتاہے اور گویافرمایاجارہاہے کہ گرتم میرے گھرکی اسی طرح عزت وحرمت کرتے رہتے اورمیرے رسول کومانتے تومیں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتااورتمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔
ابابیل جمع کاصیغہ ہے اس کاواحدلغت مین پایانہیں گیا۔سجیل کے معنی ہے بہت ہی سخت اوربعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دوفارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی سنگ اورگل سے یعنی پتھراورمٹی،غرض سجیل وہ ہے جس میں پتھرمعہ مٹی ہو۔ جمع ہے کی، کھیتی کے ان پتوں کوکہتے ہیں جوپک نہ گئے ہوں۔(سیرہ ابن ھشام51-56/1) ابابیل کے معنی ہیں گروہ گروہ ، جھنڈ، بہت سارے پے درپے جمع شدہ ، ادھرادھرسے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس واحدابابیل ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ان پرندوں کی چونچ تھی اورپرندوں جیسے اور پنجے تھے کتوں جیسے۔(تفسیرطبری 607/24) عکرمہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سبزرنگ کے پرندتھے جوسمندرسے نکلے تھے، ان کے سردرندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں۔یہ پرندباقاعدہ ان لشکروں کے سروں پر پرے باندھ کر کھڑے ہوگئے اور چیخنے لگے پھرپتھرجس کے سرمیں لگااس کے نیچے سے نکل گیادوٹکڑے ہوکرزمین پر گرا، جس کے جس عضوپرگراوہ ساقط ہوگیا،ساتھ ہی تیزآندھی آئی جس سے آس پاس کے کنکربھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اورسب تہہ وبالاہوگئے۔ عصف کہتے ہیں چارے کواورکئی کواورگیہوں کے درخت کے پتوں کواور سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیاہواہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عصف کہتے ہیں بھوسی کو جواناج کے دانوں کے اوپرہوتی ہے۔(تفسیربغوی539/4) ابن زیدرحمۃ اللہ فرماتے ہیں مرادکھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانورچرچکے ہوں،(تفسیرطبری699/24) مطلب یہ ہے کہ خدانے ان کاتہس نہس کردیااورعام خاص کوہلاک کردیاان کی ساری تدبیریں پت پڑ گئيں، کوئی بھلائي انہیں نصیب نہ ہوئی انکی خبرپہنچائے ایسابھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہاجوبھی بچا،وہ زخمی ہوکراوراس زخم سے پھرجاں برنہ ہوسکا، خودبادشاہ بھی گوہ ایک گوشت کے لوتھڑےکی طرح ہوگیاتھا،جوں توں صنعامیں پہنچالیکن وہاں جاتے ہی اس کاکلیجہ پھٹ گیااورواقعہ بیان کرہی چکاتھاجومرگیا، اس بعداس کالڑکایکسویمن کابادشاہ بنا،پھراس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی، اب سیف بن دویزن حمیری کسری کے دربار میں پہنچااوراس سے مددطلب کی تاکہ وہ ا ہل حبشہ سے لڑے اوریمن ان سے خالی کرائے، کسری نے اس کے ساتھ ایک لشکرجرارکردیا،اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کاخاندان سے سلطنت نکل گئی اورپھرقبیلہ حمیریہاں کابادشاہ بن گیا،عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چوطرف سے مبارکبادیاں وصو،ل ہوئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکابیان ہے کہ ابرہہ کے لشکرکے فیل بان اورچرکٹے کومیں نے مکہ شریف میں دیکھا،دونوں اندھے ہوگئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھےاوربھیک مانگاکرتے تھے۔ حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں اساف اورنائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اورلوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیساتھا۔بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خوداس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکرکوبہ ماتحتی شمس بن معضودکے بھیجاتھا،یہ لشکربیس ہزارکاتھااوریہ پرندان کے اوپررات کے وقت آئے تھے اورصبح تک ان سب کاستیاناس ہوچکاتھا،لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اورصحیح بات یہ ہے کہ خودابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکرلے کرآیاتھا،یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول دستہ پریہ شخص سردارہو۔اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیاہے۔سورہ فتح کی تفسیرمیں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کرآئےہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پرجانے والے تھے توآپکی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹاڈپٹالیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایانہ یہ تھکی ہے نہ اس میں اڑنے کی عادت ، اسے اس خدانے روک لیاہے جس نے ہاتھیوں کوروک لیاتھا۔
پھرفرمایااس کی قسم جس ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پرمجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گابشرطیکہ خداکی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو،پھرآپ نے اسے ڈانٹاتووہ فورااٹھ کھڑی ہوگغی۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔(بخاری،کتاب الشروط:باب الشروط فی الجھاد،ح2731،2732)بخاری مسلم کی ایک اورحدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیااوراپنے نبی کو وہاں کاقبضہ دیااوراپنے ایمانداربندوں کو،سنوآج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کرآگئی ہے جیسے کل تھی،خبردارہرحاضرکوچاہیے کہ غیرحاضرکوپہنچادے(بخاری،کتاب العلم:باب کتابہ العلم،ح112،مسلم،کتاب الحج:باب تحریم مکہ ،تحریم صیدھا،ح 1355)اللہ تعالی کے فضل وکرم سے سورہ فیل کی تفسیرختم ہوئی۔

تبصرے (0)

September 20, 2007

کوڈکے لئے


تبصرے (1)

July 13, 2007

سعودی عرب واپسی

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

میں اللہ تعالی سے امیدکرتاہوں کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک اورخوش و خرم ہوں۔ میں اللہ تعالی کے کرم اور آپ سب کی دعاؤں سے واپس سعودی عرب میں واپس آگیاہوں۔ اوران سب دوستوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے اس ناچیزکو یاد رکھا۔ اورشادی کی مبارک باد دی۔ شادی کے متعلق انشاء اللہ پھرکبھی لکھوں گااورملک کے سفرکے متعلق بھی آپ سے معلومات شیئرکروں گا۔ (انشاء اللہ)

آپکی دعاؤں کاطالب
جاویداقبال

تبصرے (1)

April 14, 2007

پاکستان واپسی اور میں(آخری حصہ)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
سب سے پہلے تو تمام دوستوں سے معذرت کے انکے کمنٹس پر میں ان کاشکریہ نہ اداکرسکاجس کی وجہ کمپیوٹرکی خرابی تھی۔ حالانکہ ابھی بھی میرا یہ بلاگ مجھے نظرنہیں آتاہے صرف ایڈمن والا حصہ ہی اوپن ہوتاہے۔باقی بلاگ اوپرکاحصہ نیلااورباقی سفیدنظرآتاہے۔ لیکن پھربھی سب دوستوں کی محبت کابہت بہت شکریہ۔جنہوں نے اس ناچیزکواس قابل سمجھااوراپنی دعاؤں میں یادرکھااوربہترین مشورے دیئے۔
اللہ تعالی کے کرم اور آپ سب کی دعاؤں کی بدولت میرا چھٹی کاپروگرام خداخداکرکے فائنل ہوا۔ اورمیں انشاء اللہ تعالی اس جمعرات کوپاکستان روانہ ہونگا۔

میرا بلاگ ایسے نظرآتاہے۔

والسلام
آپکی دعاؤں کاطالب
جاویداقبال

تبصرے (2)



Free Web Hosting