سورۃ الفجرکی( تفسیرابن کثیر)(حصہ سوئم)
سجدوں کی برکتیں۔٭٭(آیت :30-21)قیامت کے ہولناک حالات کابیان ہورہاہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائے گی، اونچی نیچی زمین برابرکردی جائے گی اوربالکل صاف ہموارہوجائے گی، پہاڑزمین کے برابرکردیئے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خودخدائے تعالی مخلوق کے فیصلے کرنے کے لئے آجائے گا،یہ اس عام شفاعت کے بعد تمام اولادآدم کے سردارحضرت محمدمصطفی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی ہوگی اوریہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر کے پاس ہوآئے گی اورہرنبی کہہ دے گامیں اس قابل نہیں،پھرسب کے سب حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آئیں گے اورآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لئے تیارہوں، پھرآپ جائیں گے اورخداکے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگارلوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے،یہی پہلی شفاعت ہے اوریہی وہ مقام حمودہے جس کامفصل بیان سورت سبحان میں گذرچکاہے۔پھراللہ تعالی رب العالمین فیصلے کے لئے تشریف لائے گا،اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتاہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے، جنہم بھی لائی جائے گی۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں جنہم کی اس روزسترہزارلگامیں ہوں گی، ہرلگام پرسترہزارفرشتے ہوں گے جواسے گھسیٹ رہے ہوں گے(مسلم ،کتاب الجنۃ:باب جھنم اعاذنااللہ منھا،ح 2842)یہی روایت خودحضرت عبداللہ بن مسعود(رضی اللہ تعالی عنہ)سے بھی مروی ہے۔اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کویادکرنے لگے گا،برائیوں پرپچھتائے گا،نیکیوں کے نہ کرنے یاکم کرنے پرافسوس کرے گا، گناہوں پرنادم ہوگا۔مسنداحمدمیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں اگرکوئی بندہ اپنے پیداہونے سے لے کرمرتے دم تک سجدے میں پڑارہے اورخداکاپورااطاعت گذاررہے پھربھی اپنی اس عبادت کوقیامت کے دن حقیراورناچیزسمجھے گااورچاہے گاکہ میں دنیاکی طرف اگرلوٹایاجاؤں تواجروثواب کے کام اورزیادہ کروں۔(احمد(185/4)(197/29)(ضعیف )بقیہ بن ولیدمدلس کے سماع کی صراحت موجودنہیں)۔
پھراللہ تعالی فرماتاہے کہ اس دن خداکے عذابوں جیساعذاب کسی اورکانہ ہوگاجووہ اپنے نافرمان اورنافرجام بندوں کوکرے گانہ اس جیسی زبردست پکڑدکڑقیدوبندکسی کی ہوسکتی ہے ،زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اورہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے، یہ توہوابدبختوں کاانجام اب نیک بختوں کاحال سنیئے جوروحیں سکون اوراطمینان والی ہیں، پاک اورثابت ہیں،حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اورقبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گاکہ تواپنے رب کی طرف ،اس کے پڑوس کی طرف ، اس کے ثواب اوراجرکی طرف، اس کی جنت اوررضامندی کی طرف لوٹ چل،یہ خداسے خوش ہے اورخدااس سے راضی ہے اوراتنادے گایہ بھی خوش ہوجائے گاتومیرے خاص بندوں میں آجااورمیری جنت میں داخل ہوجا۔حضرت ابن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ)فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان (رضی اللہ تعالی عنہ)کے بارے میں اتری۔بریدہ (رضی اللہ تعالی عنہ)فرماتے ہیں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رضی اللہ تعالی عنہ)کے باری میں اتری۔
حضرت عبداللہ(رضی اللہ تعالی عنہ)سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہاجائے گاتواپنے رب یعنی اپنے جسم طرف لوٹ جاجسے تودنیامیں آبادکئے ہوئے تھی،تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی رضامندہو،یہ بھی مروی ہے کہ حضرت عبداللہ اس آیت کو۔فادخلی فی عبدی۔پڑھتے تھے یعنی اے روح میرے بندے میں یعنی اس کے جسم میں چلی جالیکن یہ غریب ہے اورظاہرقول پہلاہی ہے،جیسے اورجگہ ہے۔ثم ردوالی اللہ مولاھم الحق(سورت انعام:52)یعنی پھرسب کے سب اپنے سچے مولاکی طرف لوٹائے جائیں گے،اورجگہ ہے ۔وان مردناالی اللہ(سورتمؤمن:43)یعنی ہمارالوٹناخداکی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اوراس کے سامنے ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیںحضرت صدیق اکبر(رضی اللہ تعالی عنہ)کی موجودگی میں اتریں توآپ نے کہاکتنااچھاقول ہے،حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتمہیں بھی یہی کہاجائے گا۔(تفسیردرمنٹور(513/8)دوسری روایت میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے سامنے سعیدبن جبیرنے یہ آیتیں پڑھیں توحضرت صدیق (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے یہ فرمایاجس پر آپ نے یہ خوش خبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا۔
ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ)مفسرالقرآن خیرالامت پیغمبراللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے چچازادبھائی کاطائف میں انتقال ہواتوایک پرندآیاجس جیساپرندکبھی زمین پردیکھانہیں گیاوہ نعش میں چلاگیاپھرنکلتے ہوئے نہیں دیکھاگیا،جب آپ کودفن کردیاگیاتوقبرکے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آوازآئی اوریہ نہ معلوم ہوسکاکہ کون پڑھ رہاہے(حاکم (544-543/3۔اصابۃ(131-130/4(حسن )یہ واقعہ مختلف طرق سے مروی ہے)یہ روایت طبرانی میں بھی ہے ابوہاشم قباث بن زرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنگ روم میںہم دشمنوں کے ہاتھ قیدہوگئے ،شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایااورکہایاتم اس دین کوچھوڑدویاقتل ہونامنظورکرلو،ایک ایک کووہ یہ کہتاکہ ہمارادین قبول کردوورنہ جلادکوحکم دیتاہوں کہ تمہاری گردن مارے، تین شخص تومرتدہوگئے جب چوتھاآیاتواس نے صاف انکارکیابادشاہ کے حکم سے اس کی گردن اڑادی گئی اورسرکونہرمیں ڈال دیاگیا،وہ نیچے ڈوب گیااورذراسی دیرمیں پانی پرآگیااوران تینوں کی طرف دیکھ کرکہنے لگاکہ اے فلاں اوراے فلاں اوراے فلاں ان کے نام لے کرانہیں آوازدی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ بھی دیکھ رہے تھے اورخودبادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہاتھااس مسلمان شہیدکے سرنے کہاسنوخداتعالی فرماتاہے ۔یاایھاالنفس المطمئنعہ ارجعی الی ربک راضیہ مرضیئہ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی۔اتناکہہ کروہ سرپھرپانی میں غوطہ لگاگیا،اس واقعہ کااتنااثرہواکہ قریب تھاکہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہوجاتے بادشاہ نے اسی وقت درباربرخاست کرادیااورتینوں پھرمسلمان ہوگئے اورہم سب یونہی قیدمیں رہے گاآخرخلیفہ ابوجعفرمنصورکی طرف سے ہمارافدیہ آگیااورہم نے نجات پائی۔
ابن عساکرمیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص سے کہا یہ دعاپڑھاکر۔اللھم انی اسئلک نفسابک مطمئینتہ نومن بلقائک وترضی بقضالک وتقنع بعطائک۔خدایامیں تجھ سے ایسانفس طلب کرتاہوں جوتیری ذات پراطمینان اوربھروسہ رکھتاہوتیری ملاقات پرایمان رکھتاہوتیری قضاپرراضی ہوتیرے دیئے ہوئے قناعت کرنے والاہو،سورت والفجرکی تفسیرختم ہوئی فاالحمداللہ۔
تحاریر