July 2, 2009

میری جان سے پیاری بیٹی کی تصویر

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

http://i811.photobucket.com/albums/zz32/javediqbal2/IMG0005A.jpg

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (2)

March 23, 2009

باادب بانصیب بے ادب بےنصیب

باادب بانصیب بےادب بےنصیب
الحمداللہ اللہ تعالی کے کرم اورآپ سب کی دعاؤں کی بدولت مدینہ منورہ میں رہتےہوئےایک سال سےزیادہ کاعرصہ ہوگیاہے۔ یہ اللہ تعالی کااس ناچیزپربےپایاں کرم ہےکہ اس نےاپنےحبیب کےشہرمیں رہنےکوجگہ دی نہیں توہمارےپاس کیاہےکچھـ بھی نہیں۔ وہ ایک شعریادآتاہے کہ ۔
یہ میں دیکھاں اپنےعمل ولےتےکجھـ نہیں میرےپلے
پرجےمیں ویکھاں تیری رحمت ولےتےبلےاےبلے

میں کافی عرصہ سےکچھـ لکھناچاہ رہاہوں لیکن وقت نہیں ملتاسوچاکہ آج انشاء اللہ اس پرکچھـ نہ کچھـ تولکھوں گا۔
میں اس بات پرلکھناچاہ رہاہوں کہ پوری دنیاسےلوگ لاکھوں روپےخرچ کرکےاس پاک سرزمین پرآتےہیں اوراپنی محبتیں نچھاورکرتےہیں لیکن ایک چیزتویہ کہ ادب سب قرینوں سےسب سےبڑاقرینہ ہےمحبت میں تومیں نےدیکھاہےکہ ہمارےپاکستانی اورانڈین اوربنگالی بھائی جب روضہ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پرحاضری دیتےتوان کےایک ہاتھـ میں جوتوں کی جوڑی ہوتی ہےاوردوسرےہاتھـ سےوہ درودالسلام کےتحفےپیش کرتےہیں جوکہ سراسرادب کےخلاف ہےکہ ہم اس نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کےروضہ اقدس پرحاضرہوئےہیں جوکہ رحمت العالمین ہےاوریہ ادب کےسراسرخلاف کہ ہمارےایک ہاتھـ میں پاؤں کی جوتی ہواورہم دردوالسلام پیش کریں یہاں پرسیکڑوں جوتیوں کےرکھنےکےریک بنےہوئےہیں لیکن ہم دوٹکےکی جوتی اس وجہ سےان میں نہ رکھیں کہ وہ وہاں سےگم نہ ہوجائےکیسی بدنصیبی ہےہماری ؟خدارامیری اتنی التماس کہ جب آپ روضہ اقدس پرحاضری دیں تواپنےہاتھوں کوباندھ کربڑےادب واحترام سےدرودالسلام کےنذارنےپیش کریں۔ اللہ تعالی میری اس کاوش کواپنےبارگاہ ایزی میں قبول کرےاورمیری مغفرت فرمائیں(آمین ثم آمین)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (5)

February 27, 2009

شاعری

غزل
کچھــ لوگ پیارکی سزادیتے ہیں
محبوب کولگاکرزخم پھرادادیتےہیں
زبان سےخوب محبت محبت کہتےہیں یہ
لیکن محبوب کومحبت کی سزادیتےہیں
الجھاکراپنی باتوں کےجال میں وہ اکثر
کہتےہیں کہ ہم اپنی محبت کاحق اداکرتےہیں
کرکےرسوازمانےبھرمیں محبوب کواپنے
لبوں سےاپنےمحبت محبت کی صدادیتےہیں

قعطہ
دل میں ہےلیکن اقرارنہیں کرتے
ہم محبت کویوں سرعام بدنام نہیں کرتے
محبت دوسرانام ہےدیوانگی کا
لیکن ہم زبان سےیہ لفظ باربارادانہیں کرتے

قعطہ
جن سےہمیں پیارہوتاہے
انہیں کیوں ہم پراعتبارنہیں ہوتا
آنکھوں میں ہوتاہےانہی کاانتظار
دل انکی جدائی میں بےقرارہوتاہے

غزل
کاش کوئی ہمارابھی ہوتا
جوہمارےلیےبےقرارہوتا
ہمارےدکھوں کواپنےدامن میں سمیٹتا
ہمارےسسکی سےوہ بےتاب ہوتا
رات تنہائیوں میں صرف ہمیں سوچتا
اوراسےہمارےجذبات کااحساس ہوتا
تمناہےیہی کہ اسے
ہمارےعلاوہ نہ کسی کاانتظارہوتا
کاش کوئی توہماراہوتا
کاش کوئی توہماراہوتا

قعطہ
آپ کی چاہت نےہم کودیوانابنادیا
راتوں کی نیندکوآنکھوں سےاڑادیا
دل میں ایساکوئی دردجگادیا
ہرپل لبوں پرنام ہےآپکاایساہمیں بنادیا

شعر
کچھـ لوگ دل کےقریب ہوتےہیں
وہ ہی لوگ توہمارانصیب ہوتےہیں

تبصرے (2)

January 28, 2009

صحیح مسلم (ترجمہ مولاناوحیدالزماں ۔ شرح نووی)۔

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
الحمداللہ رب تعالی کالاکھـ لاکھـ شکرہے کہ میں نےمسلم شریف پرکام کاآغاز کردیاہے جوبندہ پڑھناچاہے تواسکالنک یہاں ہے۔

[url=http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=18705]صحیح مسلم جلدنمبر6[/url]

والسلام
آپکی دعاؤں کاطالب
جاویداقبال

تبصرے (3)

January 16, 2009

مسلم شریف پرکام کاآغاز

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
اللہ تعالی کےکرم اورآپ سب کی دعاؤں کی بدولت میں نےالحمداللہ مسلم شریف ترجمہ مولاناوحیدالزمان صاحب کااورنووی صاحب کی شریح پرکام شروع کردیاہےجوکہ چھـ جلدوں پرمشتمل ہےاورمیں نےچھـ نمبرجلدپرکام کاآغازکردیاہے۔باقی اگرکوئی اس کام میں مددکرناچاہیےتوآگاہ کرے۔ جزاک اللہ خیر۔

والسلام
آپکی دعاؤں کاطالب
جاویداقبال

تبصرے (6)

January 1, 2009

نئےسال کاپہلادن “عہد کا دن”

نئےسال کاپہلادن “عہد کا دن”

درددل کےواسطےپیداکیاانسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھـ کم نہ تھے کروبیان

نیادن،نیاہفتہ،نیامہینہ کےملاپ سے بنتاہےایک نیاسال ۔ یہ سکینڈوں سےمنٹوں، منٹوں سےگھنٹوں اورگھنٹوں سےدن، دنوں سےہفتے،ہفتوں سےمہینے،اورمہینوں سےبنتاہے ایک سال۔ ہم ہرسال کی خوشیاں مناتےہیں ایکدوسرے کومبارک بادیں دیتےہیں اوراس کےلیےایکدوسرےکودعائیں دیتےہیں کہ اللہ تعالی اسکواس نئےسال میں خوشیاں ہی خوشیاں دے۔(آمین ثم آمین)
لیکن ہم بھول جاتے ہیں اپنی ذمہ داریاں،اپنےحقوق اپنے فرائض کیوں؟ کیونکہ انسان بہت ناشکراہے؟ بہت ناشکرا؟ ہمیں خوشیاں ملیں توبھی ہم اس بنانےوالےکوبھول جاتے ہیں بجائے کہ اسکاشکراداکریں اورغم ملیں توبھی اسکوبھول جاتے ہیں کہ صبرکی دعاکریں دونوں چیزیں معتدل طریقےسےملیں توبھی بھول جاتے ہیں کہ اسکاشکراداکریں۔ کیونکہ دنیاکانظام ہی ان دونوں چیزوں سےمتصل ہے۔خوشی یاغم۔
جبکہ ہم نمازیں بہت پڑھتےہیں،روزےبھی رکھتےہیں،زکوۃ بھی دیتے ہیں حج وعمرہ کی سعادت بھی حاصل کرتےہیں لیکن اسلام ہمارےدلوں میں داخل نہیں سب کچھـ دکھاوا کرتےہیں بس دکھاوا۔نمازیں پڑھیں لیکن کسی کاحق کھایاکیافائدہ اس نماز کاکیافائدہ،نماز پڑھی برائی کاکام کیا،کیافائدہ اس نماز کا،جبکہ نمازتوبرائی سے روکتی ہے، نماز پڑھی لیکن رشوت لی، کیافائدہ نمازکا،نمازپڑھی کسی کودکھـ دیاکیافائدہ ایسی نمازکا،نمازپڑھی لیکن جھوٹ بولا،کیافائدہ ایسی نمازکا،تواسی لیےتوہمیں سکون، نہیں ملتا، ہمارےدلوں کوتسلی نہیں ہوتی،ہروقت بےچینی محسوس ہوتی ہے،سوکوشش کرلیں لیکن خسوع وخشوع نہیں ملتا۔ میرے بھائی بہنوں، آپ جوبھی کام کروچاہیے اسکوتھوڑاساشروع کرو۔لیکن نیت کوخالص رکھوخداکی رضاکےلیےآہستہ آہستہ اس میں خودبخود برکت پڑتی جائےگی۔ اپناخیال رکھولیکن دوسرےکےحقوق کوبھی مدنظررکھو، کسی کادل نہ دکھاؤ، محبت کرواورمحبتیں بانٹو، کیونکہ مسلمان ایک جسم کی مانندہیں جسکےایک حصہ کوتکلیف پہنچتی ہےتوسارا جسم دردکرتاہے۔
اللہ تعالی ہمارے اعمال پررحم کرے اورہمیں سچاوپکامسلمان بنائے (آمین ثم آمین)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (2)

December 28, 2008

اردوبلاگ

Urdu Blogs
Powered By Ringsurf

تبصرے (3)

December 23, 2008

کیا”پاکستان” ایک ناکام ریاست ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کیا”پاکستان” ایک ناکام ریاست ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

خدا نے بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلی
جسکوناں ہوخیال خوداپنی حالت بدلنے کا

تندہی بادمخالف سے نہ گھبرااےعقاب
یہ توچلتی ہے تجھے اونچااڑانے کےلیے

تھوڑے دن ہی ہوئے کہ نوازشریف صاحب نے پاکستان کوناکام ریاست کہااورآصف زرداری صاحب نے مردبیمارکہاہے توہمیں یہ فیصلہ کرناہے کہ کیاپاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟
کیونکہ اس وقت جوبات دشمن کہہ رہاہے ہم اسکی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں بلکہ اسکی زبان ہمارے منہ میں ہےجووہ چاہ رہاہے ہمیں اسی طرح کررہے ہیں۔پاکستان کوقائم ہوئے تقریبا60ساٹھـ سال سے اوپرکاعرصہ ہوگیاہےلیکن بےیقینی کی سی صورت ہے جبکہ ہمارے سامنے ہے کہ جب 71کاواقعہ پیش آیاتھاتوکیاحالات تھےجنکی پوری تفیصل ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائی جاسکی۔ہمیں اسی وقت اپنے آپکو سنبھالناچاہیے تھالیکن ہم توایسی غفلت کی نیندمیں پڑے ہوئے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ اس ملک کویہاں تک پہنچانے میں کون کون سے عناصر یہ ملک یہاں تک کیوں پہنچاہم نےاس ملک کے لئے کیاکیا۔ کیاقربانی اس ملک کے لئےدی یہ ملک لاکھوں انسانوں کے خون سے معرض وجودمیں آیالیکن ہم نے اس کوکیادیا۔یہ ہمیں سوچناچاہیے ہم یہ رٹ تولگاتے ہیں کہ ہمیں اس ملک نے کیادیاپہلے اپنے گریبان میں جھانک کردیکھناچاہیے کہ ہم نے اس ملک کے لئے کیاکیا۔اس ملک کواس دلدل سے انشاء اللہ ہم نے ہی نکالناہےکیونکہ یہ ملک امانت ہے ہمارے بڑوں کی، ہمارے لاکھوں لوگوں کی جنہوں نے اس ملک کوحاصل کےلئے اپناتن من اوردھن دیا،ہمیں اس ملک کوبچناہے اپنے لیے اپنے بچوں کے لئےاس کے لئے ہمیں انفرادی طورپرکام کرناہوگاہمیں ہرمحاذپرخودلڑناہوگاہمیں کام کے لئے حکومت کرے گی رٹ سے باہرنکلناہوگا۔پھرہی ہم اس ملک کوبلندی پرلےکرجاسکتے ہیں اس کووہ ترقی دے سکتے ہیں وہ ریاست بناسکتے ہیں جس کاخواب ہمارے بزرگ دیکھـتے تھےاب اسکی بھاگ دوڑہمارے ہاتھوں میں اس کوجدھرلے کرجاناہے ہم نے لے کرجاناہے بجائے کسی کی طرف دیکھنے کہ ہمیں ہمت کرنی ہےاپنے آپ میں احساس ذمہ داری پیداکرناہےاس ملک کوترقی ہم نے دینی ہےاس کے لئے ایک نہایت آسان فارمولاہےبس اس پرعمل کی ضرورت ہے۔ کہ ہمیں سچ کورائج کرناہے جھوٹ کوختم کرناہے۔ اپنی ذمہ داری کااحساس کرناہے جہاں بھی کوئی براکام ہوتادیکھیں اس کوبراکہناہے بلکہ کوشش کرنی ہے کہ اسکوختم کرایاجائےیہ ایک دودن میں نہیں ہوگالیکن سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ اس مقاولے پرعمل کرناچاہیے
باقی جنگ کوئی بچوں کاکھیل نہیں ہے اورہم نےبھی چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں اس بات کوبھارت کوبھی اچھی طرح علم ہےوہ سودفعہ سوچے گاپھرحملہ کرے گاباقی ہمارے حکمران توایسے بیان دے رہے ہیں جیسے کہ ہمیں انڈیاکھانے کے لئے دیتاہے۔ لیکن ایک بات جوکہ دل پرتیرکی طرح لگتی ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے جبکہ انڈیاجھوٹ کو بھی سچ ثابت کررہاہے اورہم ہیں کہ سچ کوسچ ثابت نہیں کرسکےیہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ ماناکہ اس کے پاس وسائل زیادہ ہیں میڈیاطاقتورہے لیکن ہمارامیڈیابھی کسی سے کم نہیں ہےلیکن بات یہ ہے کہ ہمارامیڈیے میں اکثربندے انڈیاکے تنخواہ خوارمعلوم ہوتےہیں کہ جوہیں تومسلمان پاکستانی لیکن سوچتےہندواورہندوستان کےليے ہمیں ان سے بچناچاہیے۔یہ ایسے بیان دیں گے کہ پاکستان توانڈیاسے بہت کمزورہے پاکستان میں تودہشت گردی ہے پاکستان میں تویہ ہے وہ ہے لیکن دیکھاجائے کہ انڈیامیں جس کی اتنی ریاستیں ہیں اورایک محتاط اندازے کے مطابق 21غیرسرکاری تنظمیں ایسی ہیں جوکہ حکومت کے خلاف نبردآزماہیں اورانہوں نے ہتھیاراٹھائے ہوئے ہیں۔ایسی صورت حال میں بھی اگرانڈیاہم سے جنگ کرنے کی غلطی کرناچاہتاتوکیاکہاجاسکتاہے۔ماناکہ پاکستان کےبھی داخلی اورخارجی حالات جنگ کوافورڈنہیں کررہے لیکن ایک چیزتوہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ یہ قوم تکلیف کے وقت ایک ہوجاتی ہے انشاء اللہ جب ہم ایک ہوگئے توکوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔ہماری حکومت کوچاہیے کہ پہلے توکوشش کرےکہ اس جنگ کوسیاست سے حل کرنے کی اگرانڈیانےحملہ کیاتوپھرہمیں منہ نہیں پھیرناچاہیےپھرجوہوگادیکھاجائے۔کیونکہ آج تک یہ تاریخ ہے کہ پاکستان نے پہلے حملہ نہیں کیابلکہ حملہ ہمیشہ انڈیاکی طرف سے ہی ہوئی ہمیں اپنادفاع توکرناہےناں۔
باقی اللہ تعالی ہمارے اوپراپناکرم کرے ہمیں نیک کام کرنے کی توفیق دے اوراحساس ذمہ داری دے (آمین ثم آمین)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (8)

December 2, 2008

سورۃ الفجرکی( تفسیرابن کثیر)(حصہ سوئم)

سجدوں کی برکتیں۔٭٭(آیت :30-21)قیامت کے ہولناک حالات کابیان ہورہاہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائے گی، اونچی نیچی زمین برابرکردی جائے گی اوربالکل صاف ہموارہوجائے گی، پہاڑزمین کے برابرکردیئے جائیں گے، تمام مخلوق قبر سے نکل آئے گی، خودخدائے تعالی مخلوق کے فیصلے کرنے کے لئے آجائے گا،یہ اس عام شفاعت کے بعد تمام اولادآدم کے سردارحضرت محمدمصطفی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی ہوگی اوریہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر کے پاس ہوآئے گی اورہرنبی کہہ دے گامیں اس قابل نہیں،پھرسب کے سب حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آئیں گے اورآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لئے تیارہوں، پھرآپ جائیں گے اورخداکے سامنے سفارش کریں گے کہ وہ پروردگارلوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے،یہی پہلی شفاعت ہے اوریہی وہ مقام حمودہے جس کامفصل بیان سورت سبحان میں گذرچکاہے۔پھراللہ تعالی رب العالمین فیصلے کے لئے تشریف لائے گا،اس کے آنے کی کیفیت وہی جانتاہے، فرشتے بھی اس کے آگے آگے صف بستہ حاضر ہوں گے، جنہم بھی لائی جائے گی۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں جنہم کی اس روزسترہزارلگامیں ہوں گی، ہرلگام پرسترہزارفرشتے ہوں گے جواسے گھسیٹ رہے ہوں گے(مسلم ،کتاب الجنۃ:باب جھنم اعاذنااللہ منھا،ح 2842)یہی روایت خودحضرت عبداللہ بن مسعود(رضی اللہ تعالی عنہ)سے بھی مروی ہے۔اس دن انسان اپنے نئے پرانے تمام اعمال کویادکرنے لگے گا،برائیوں پرپچھتائے گا،نیکیوں کے نہ کرنے یاکم کرنے پرافسوس کرے گا، گناہوں پرنادم ہوگا۔مسنداحمدمیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)فرماتے ہیں اگرکوئی بندہ اپنے پیداہونے سے لے کرمرتے دم تک سجدے میں پڑارہے اورخداکاپورااطاعت گذاررہے پھربھی اپنی اس عبادت کوقیامت کے دن حقیراورناچیزسمجھے گااورچاہے گاکہ میں دنیاکی طرف اگرلوٹایاجاؤں تواجروثواب کے کام اورزیادہ کروں۔(احمد(185/4)(197/29)(ضعیف )بقیہ بن ولیدمدلس کے سماع کی صراحت موجودنہیں)۔
پھراللہ تعالی فرماتاہے کہ اس دن خداکے عذابوں جیساعذاب کسی اورکانہ ہوگاجووہ اپنے نافرمان اورنافرجام بندوں کوکرے گانہ اس جیسی زبردست پکڑدکڑقیدوبندکسی کی ہوسکتی ہے ،زبانیہ فرشتے بدترین بیڑیاں اورہتھکڑیاں انہیں پہنائے ہوئے ہوں گے، یہ توہوابدبختوں کاانجام اب نیک بختوں کاحال سنیئے جوروحیں سکون اوراطمینان والی ہیں، پاک اورثابت ہیں،حق کی ساتھی ہیں ان سے موت کے وقت اورقبر سے اٹھنے کے وقت کہا جائے گاکہ تواپنے رب کی طرف ،اس کے پڑوس کی طرف ، اس کے ثواب اوراجرکی طرف، اس کی جنت اوررضامندی کی طرف لوٹ چل،یہ خداسے خوش ہے اورخدااس سے راضی ہے اوراتنادے گایہ بھی خوش ہوجائے گاتومیرے خاص بندوں میں آجااورمیری جنت میں داخل ہوجا۔حضرت ابن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ)فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان (رضی اللہ تعالی عنہ)کے بارے میں اتری۔بریدہ (رضی اللہ تعالی عنہ)فرماتے ہیں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رضی اللہ تعالی عنہ)کے باری میں اتری۔
حضرت عبداللہ(رضی اللہ تعالی عنہ)سے یہ بھی مروی ہے کہ قیامت کے دن اطمینان والی روحوں سے کہاجائے گاتواپنے رب یعنی اپنے جسم طرف لوٹ جاجسے تودنیامیں آبادکئے ہوئے تھی،تم دونوں آپس میں ایک دوسرے سے راضی رضامندہو،یہ بھی مروی ہے کہ حضرت عبداللہ اس آیت کو۔فادخلی فی عبدی۔پڑھتے تھے یعنی اے روح میرے بندے میں یعنی اس کے جسم میں چلی جالیکن یہ غریب ہے اورظاہرقول پہلاہی ہے،جیسے اورجگہ ہے۔ثم ردوالی اللہ مولاھم الحق(سورت انعام:52)یعنی پھرسب کے سب اپنے سچے مولاکی طرف لوٹائے جائیں گے،اورجگہ ہے ۔وان مردناالی اللہ(سورتمؤمن:43)یعنی ہمارالوٹناخداکی طرف یعنی اس کے حکم کی طرف اوراس کے سامنے ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ آیتیںحضرت صدیق اکبر(رضی اللہ تعالی عنہ)کی موجودگی میں اتریں توآپ نے کہاکتنااچھاقول ہے،حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتمہیں بھی یہی کہاجائے گا۔(تفسیردرمنٹور(513/8)دوسری روایت میں ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے سامنے سعیدبن جبیرنے یہ آیتیں پڑھیں توحضرت صدیق (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے یہ فرمایاجس پر آپ نے یہ خوش خبری سنائی کہ تجھے فرشتہ موت کے وقت یہی کہے گا۔
ابن ابی حاتم میں یہ روایت بھی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالی عنہ)مفسرالقرآن خیرالامت پیغمبراللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے چچازادبھائی کاطائف میں انتقال ہواتوایک پرندآیاجس جیساپرندکبھی زمین پردیکھانہیں گیاوہ نعش میں چلاگیاپھرنکلتے ہوئے نہیں دیکھاگیا،جب آپ کودفن کردیاگیاتوقبرکے کونے سے اسی آیت کی تلاوت کی آوازآئی اوریہ نہ معلوم ہوسکاکہ کون پڑھ رہاہے(حاکم (544-543/3۔اصابۃ(131-130/4(حسن )یہ واقعہ مختلف طرق سے مروی ہے)یہ روایت طبرانی میں بھی ہے ابوہاشم قباث بن زرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنگ روم میںہم دشمنوں کے ہاتھ قیدہوگئے ،شاہ روم نے ہمیں اپنے سامنے بلایااورکہایاتم اس دین کوچھوڑدویاقتل ہونامنظورکرلو،ایک ایک کووہ یہ کہتاکہ ہمارادین قبول کردوورنہ جلادکوحکم دیتاہوں کہ تمہاری گردن مارے، تین شخص تومرتدہوگئے جب چوتھاآیاتواس نے صاف انکارکیابادشاہ کے حکم سے اس کی گردن اڑادی گئی اورسرکونہرمیں ڈال دیاگیا،وہ نیچے ڈوب گیااورذراسی دیرمیں پانی پرآگیااوران تینوں کی طرف دیکھ کرکہنے لگاکہ اے فلاں اوراے فلاں اوراے فلاں ان کے نام لے کرانہیں آوازدی جب یہ متوجہ ہوئے سب درباری لوگ بھی دیکھ رہے تھے اورخودبادشاہ بھی تعجب کے ساتھ سن رہاتھااس مسلمان شہیدکے سرنے کہاسنوخداتعالی فرماتاہے ۔یاایھاالنفس المطمئنعہ ارجعی الی ربک راضیہ مرضیئہ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی۔اتناکہہ کروہ سرپھرپانی میں غوطہ لگاگیا،اس واقعہ کااتنااثرہواکہ قریب تھاکہ نصرانی اسی وقت مسلمان ہوجاتے بادشاہ نے اسی وقت درباربرخاست کرادیااورتینوں پھرمسلمان ہوگئے اورہم سب یونہی قیدمیں رہے گاآخرخلیفہ ابوجعفرمنصورکی طرف سے ہمارافدیہ آگیااورہم نے نجات پائی۔
ابن عساکرمیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص سے کہا یہ دعاپڑھاکر۔اللھم انی اسئلک نفسابک مطمئینتہ نومن بلقائک وترضی بقضالک وتقنع بعطائک۔خدایامیں تجھ سے ایسانفس طلب کرتاہوں جوتیری ذات پراطمینان اوربھروسہ رکھتاہوتیری ملاقات پرایمان رکھتاہوتیری قضاپرراضی ہوتیرے دیئے ہوئے قناعت کرنے والاہو،سورت والفجرکی تفسیرختم ہوئی فاالحمداللہ۔

تبصرے (1)

سورۃ الفجرکی( تفسیرابن کثیر)(حصہ دوئم)

جلی وغیرہ نے بیان کیاہے کہ ایک اعرابی حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنے گم شدہ اونٹوں کوڈھونڈرہاتھاکہ جنگل بیابان میں اس نے اسی صفت کاایک شہر دیکھااوراس میں گیاگھوماپھرا،پھرلوگوں سے آکرذکرکیا، لوگ بھی وہاں گئے لیکن پھر کچھ نظرنہ آیا۔
ابن ابی حاتم نے یہاں ایسے قصے بہت سے لمبے چوڑے نقل کئے ہیں، یہ حکایت بھی صحیح نہیں اوراگریہ اعرابی والاقصہ سنداصحیح مان لیں توممکن ہے اسے ہوس اورخیال ہواوراپنے خیال میں اس نے یہ نقشہ جمالیاہواورخیالات کی پختگی اورعقل کی کم نے اسے یقین دلادیاہوکہ وہ صحیح طورپریہی دیکھ رہاہے اورفی الواقع یوں بھی ہو۔
ٹھیک اسی طرح جوجاہل حریص اورخیالات کے کچے ہوں سمجھتے ہیں کہ کسی خاص زمین تلے سونے چاندی کے پل ہیں اورقسم قسم کے جواہر یاقوت لؤ لؤاورموتی ہیں اکسیرکبیر ہے لیکن ایسے چند مواقع ہیں کہ وہاں لوگ پہنچ نہیں سکتے مثلا خزانے کے منہ پر کوئی اژدھابیٹھاہے کسی جن کاپہرہ ہے وغیرہ، یہ سب فضول قصے اوربناوٹی باتیں ہیں، انہیں گھڑگھڑاکربے وقوفوں اورمال کے حریصوں کو اپنے دام میں پھانس کر ان سے کچھ وصول کرنے کے لئے مکاروں نے مشہورکررکھے ہیں، پھر کبھی چلے کھینچنے کے بہانے سے، کبھی نجورکے بہانے سے، کبھی کسی اورطرح سے ان کے یہ مکارروپے وصول کرلیتے ہیں اوراپناپیٹ پالتے ہیں،ہاں یہ ممکن ہے کہ زمین سے جاہلیت کایامسلمانوں کے زمانے کاکسی کاگاڑاہوامال نکل آئے تواس کاپتہ جسے چل جائے وہ اس کے ہاتھ لگ جاتاہے، نہ وہاں کوئی مارگنج ہوتاہے نہ کوئی دیوبھوت جن پری جس طرح ان لوگوں نے مشہورکررکھاہے، یہ بالکل غیرصحیح ہے، یہ ایسے ہی لوگوں کی گھڑنت ہے یاان جیسے لوگوں سے سنی سنائی ہے اللہ سبحانہ وتعالی نیک سمجھ دے۔
امام ابن جریرنے بھی فرمایاہے کہ ممکن ہے اس سے قبیلہ مرادہواورممکن ہے شہرمرادہولیکن ٹھیک نہیں یہاں توصاف ظاہرہوتاہے کہ ایک قوم کاشہر ہے نہ کہ ذکرکااسی لئے اس کے بعدثمودیوں کاذکرکیاکہ وہ ثمودی جوپتھروں کاتراش لیاکرتے تھے، جیسے اورجگہ ہے۔وتنحتون من بیوتافارھین(سورت شعراء:149)یعنی تم پہاڑوں میں اپنے کشادہ آرام دہ مکانات اپنے ہاتھوں پتھروں میں تراش لیاکرتے تھے،اس کے ثبوت میں کہ اس کے معنی تراش لینے کے ہیں عربی شعربھی ہے۔ابن اسحاق فرماتے ہیں ثمودی عرب تھے، وادی القری میں رہتے تھے،عادیوں کاقصہ پوراپوراسورت اعراف میں ہم بیان کرچکے ہیں اب اعادہ کی ضرورت نہیں پھرفرمایامیخوں والافرعون، اوتارکے معنی ابن عباس نے لشکروں کے کئے ہیں جو کہ اس کے کاموں کامضبوط کرتے رہتے تھے(تفسیرطبری۔409-24)یہ بھی مروی ہے کہ فرعون غصے کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گڑواکرمرواڈالتاتھا(تفسیرطبری۔409-24)چورنگ کرکے اوپرسے بڑاپتھرپھینکتاتھاجس سے اس کاکچومرنکل جاتاتھا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسیوں اورمیخوں سے اس کے سامنے کھیل کئے جاتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس نے اپنی بیوی صاحبہ کو جو مسلمان ہوگئی تھیں لٹاکردونوں ہاتھوں اوردونوں پاؤں میں میخیں گاڑیں، پھربڑاساچکی کاپتھران کی پیٹھ پر مارکرجان لے لی، اللہ ان پر رحم کرے۔(حاکم۔523-2عن ابن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہاہے)
پھرفرمایا کہ ان لوگوں نے سرکشی پر کمر باندھ لی تھی اورفسادی لوگ تھے لوگوں کوحقیر وذلیل جانتے تھے اورہرایک کوایذاپہنچاتے تھے۔ نیتجہ یہ ہوا کہ خداکے عذاب کاکوڑابرس پڑا، وبال آیاجوٹالے نہ ٹلا، ہلاک و برباداورتہس نہس ہوگئے۔ تیرارب گھات میں ہے ،دیکھ رہاہے ،سن رہاہے، سمجھ رہاہے، وقت مقررہ پرہربرے بھلے کو نیکی بدی کی جزاسزادے گا، یہ سب لوگ اس کے پاس جانے والے تن تنہااس کے سامنے کھڑے ہونے والے ہیں اوروہ عدل وانصاف کے ساتھ ان میں فیصلے کرے گااورہرشخص کوپوراپورادے گاجس کاوہ مستحق تھا، وہ ظلم و جورسے پاک ہے۔
یہاں پریہ ابن ابی حاتم نے ایک حدیث واردکی ہے جوبہت غریب ہے جس کی سندمیں کلام ہے اورصحت میں بھی نظرہے،اس میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایااے معاذمومن حق کاقیدی ہے،اے معاذمومن تودغدغے میں ہی رہتاہے جب تک پل صراط سے پارنہ جائے۔ اے معاذمومن کوقرآن نے بہت سی دلی خواہشوں سے روک رکھاہے تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائے، قرآن اس کی دلیل ہے ،خوف اس کی حجت ہے، شوق اس کی سواری ہے، نماز اس کی پناہ ،روزہ اس کی ڈھال ہے ،صدقہ اسکاچھٹکاراہے،سچائی اس کاامیرہے شرم اس کاوزیرہے اوراس کارب ان سب کے بعداس پر واقف و آگاہ ہے وہ تیزنگاہوں سے اسے دیکھ رہاہے۔ اس کے راوی یونس خداء اورابوحمزہ مجہول ہیں، پھراس میں ارسال بھی ہے، ممکن ہے یہ ابوحمزہ ہی کاکلام ہو۔ اسی ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابن عبدالکلاعی نے اپنے ایک وعظ میں کہالوگوجہنم کے ساتھ پل ہیں ،ان سب پرپل صراط ہے پہلے ہی پل پرلوگ روکے جائے گے،یہاں نماز کاحساب کتاب ہوگا، یہاں سے نجات مل گئی تودوسرے پل پر روک ہوگی یہاں پر ایمانتداری کاسوال ہوگاجوامانت دارہوگااس نے نجات پائی اورجوخیانت والانکلاہلاک ہوا۔
تیسرے پل پر صلہ رحمی کی پرسش ہوگی اس کے کاٹنے والے یہاں سے نجات نہ پاسکیں گے اورہلاک ہوں گے، رشتہ داری یعنی صلہ رحمی وہیں موجودہوں گی اوریہ کہہ رہی ہوں گی کہ خدایاجس نے مجھے جوڑاتواسے جوڑجس نے مجھے توڑاتواسے توڑ، یہی معنی ہیں ۔ ان ربک لبالمرصاد۔ یہ اثراتناہی پورانہیں۔
ترجمہ:۔انسان کایہ حال ہے کہ جب اس کارب آزمائے اورعزت ونعمت دے تو کہنے لگتاہے کہ میرے رب نے میرااکرام کیا۔اورجب اس کاامتحان لیتے ہوئے اس کی روزی تنگ کردے توکہنے لگتاہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی۔ایساہرگزنہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ اورمسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسروں کورغبت نہیں دیتے۔اورمردوں کی میراث سمیٹ سمیٹ کرکھاتے ہو۔اورمال کوجی بھرکرعزیزرکھتے ہو۔
وسعت رزق کواکرام نہ سمجھوبلکہ امتحان سمجھو۔٭٭(آیت نمبر:20-15)مطلب یہ ہے کہ جولوگ وسعت اورکشادگی پاکریوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ خدا نے ان پراکرام کیایہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے،جیسے کہ ایک اورجگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔ایحسبون انمانمدھم۔(سورت مومنون:55)۔یعنی مال و اولادکے بڑھ جانے کویہ لوگ نیکیوں کی بڑھوتری سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بے سمجھی ہے،اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگی ترشی کوانسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتاہے حالانکہ دراصل یہ بھی خداکی طرف سے آزمائش ہے اسی لئے یہاں۔کلا۔کہہ کران دونوں خیالات کی تردیدکی کہ یہ واقعہ نہیں جسے خدامال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اورجس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ دارومدارخوشی اورناخوشی کاان دونوں حالتوں میں عمل پر ہے،غنی ہوکرشکرگذاری کرے تو خداکامحبوب اورفقیرہوکرصبرکرے تو اللہ کامحبوب۔
خدائے تعالی اس طرح اوراس طرح آزماتاہے پھریتیم کی عزت کرنے کاحکم ہے۔حدیث میں ہے کہ سب سے اچھاگھروہ ہے جس میں یتیم ہواوراس کی اچھی پرورش ہورہی ہواوربدترین گھروہ ہے جس میں یتیم ہواوراس سے بدسلوکی کی جاتی ہو،پھرآپ نے انگلی اٹھاکرفرمایامیں اوریتیم کاپالنے والاجنت میں اسی طرح ہوں گے یعنی قریب قریب۔(ابن ماجہ،کتاب الادب:باب حق الیتیم،ح 3679(ضعیف)اس کی سندمیں یحیی بن ابی سلیمان ضعیف راوی ہے۔
ابوداؤدکی حدیث میں ہے کہ کلمہ کی اوربیچ کی انگلی ملاکرانہیں دکھاکرآپ نے فرمایامیں اوریتیم کاپالنے والاجنت میں اس طرح ہوںگے۔(بخاری،کتاب الطلاق:باب اللعان،ح 5304،ابوداؤد،کتاب الادب:باب فی من ضم یتیما،ح5150)پھرفرمایاکہ یہ لوگ فقیروں مسکینوں کے ساتھ سلوک احسان کرنے انہیں کھاناپینادینے کی ایک دوسرے کورغبت و لالچ نہیں دلاتے اوریہ عیب بھی ان میں ہے کہ میراث کامال حلال ہویاحرام ہضم کرجاتے ہیں اورمال کی محبت بھی ان میں بے طرح ہے۔
ترجمہ:۔یقینا ایک وقت زمین بالکل برابر پست کرکے بچھادی جائے گی۔اورتیرارب خود آجائے گااورفرشتے صفیں باندھ باندھ کرآجائیں گے۔اورجس دن جہنم بھی لائی جائے گی اس دن انسان عبرت حاصل کرلے گالیکن آج عبرت کافائدہ کہاں؟۔وہ کہے گاکہ کاش کہ میں اپنی اس زندگی کے لئے کچھ نیک اعمال بھیج دیتا۔پس آج اللہ کے عذابوں جیساعذاب کسی کانہ ہوگا۔ نہ اس کی قیدوبندجیسی کسی کی قیدوبندہوگی۔ اے اطمینان والی روح۔لوٹ چل اپنے رب کی طرف تواس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔پس میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا۔اورمیری جنت میں چلی جا۔

تبصرے (0)