February 7, 2010

کراچی جل رہاہے؟

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

رب زدنی علما۔

پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی موجودہ لہر نے ہر حساس دل کو تڑپا کر رکھ دیا ہے۔مسلمان مسلمان کا خون بہانے میں مصروف ہے۔ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے۔
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ (سورۃ الانعام 65)
‘’کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔'’
جو لوگ جہاد کے نام پر ملک میں دہشت گردی کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (سورۃ النساء۔93)
‘’رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔'’
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا :
فإِنَّ دِماءَكم وأموالكم وأعراضكم وأبشارَكم عليكم حَرام كحرْمةِ يومكم هذا، في شهركم هذا، في بَلدِكم هذا. ألا هل بَلغتُ؟ قلنا: نعم۔ (صحیح البخاری 6924)
‘’تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ‘’جی ہاں۔'’
جو شخص امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہتھیار اٹھاتا ہے، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:
‘’من حملَ علينا السلاحَ فليسَ منا'’ (صحیح البخاری حدیث نمبر6916)
‘’جس نے ہم (مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔'’
مسلمان کوقتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو اس سے بھی منع فرمایا کہ ہتھیار کے ساتھ مسلمان کی طر ف اشارہ کیا جائے:
لا يُشيرُ أحدُكم على أخيهِ بالسلاح، فإِنه لا يدري لعلَّ الشيطانَ يَنزغُ في يدَيه فيقع في حُفرَة منَ النار (صحیح البخاری حدیث نمبر 6918
‘’ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ اسے کیا معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے (ہتھیارکو) گرا دے (یا چلا دے) تو (مسلمان کو قتل کرنے کی وجہ سے) وہ جہنم کے ایک گڑھے میں جا گرے۔'’
دورِ نبوی میں کوئی شخص اگر تیر لے کر مسجد یا بازار میں جاتا تو اسے حکم دیا جاتا تھا کہ وہ اس کی نوک کو پکڑے رہے ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو خراش آ جائے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 6918
اللہ اکبر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
‘’لا ترجِعوا بَعدي كفّاراً يَضرِبُ بعضُكم رِقابَ بعضٍ (صحیح البخاری کتاب الفتن۔ باب لا ترجعوا بعدی کفارا)
میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ آپس میں ایکدوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔'’
اور فرمایا:
سِبابُ المسلم فُسوقٌ وقِتالُهُ كفرٌ (صحیح البخاری۔ حدیث نمبر6922)
‘’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔'’
قتل مسلم کا ارادہ کرنے سے بھی منع فرما دیا۔ فرمایا:
إذا تَواجَهَ المسلمان بسيفَيهما فكلاهما من أهل النار. قيل: فهذا القاتل، فما بالُ المقتول؟ قال: إنه أرادَ قتلَ صاحبه (بخاری حدیث نمبر6929)
‘’ جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔'’ صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ‘’ اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔'’
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپس کی لڑائیوں سے سختی سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپس کی لڑائیاں مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بنیں گی۔ جو لوگ جہاد کے نام پر یہ کاروائیاں کر رہے ہیں انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اُس فرمان کی روشنی میں ہوش کے ناخن لینے چاہییں جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا کہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قحط کے ذریعے تباہ نہ کی جائے گی، اور نہ کوئی ایسا دشمن باہر سے ان پر مسلط کیا جائے گا جو انہیں بالکل ختم کر دے۔ امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر تباہ ہو گی تو ایکدوسرے کو قتل کرنے کی وجہ سے ہو گی۔ اصل الفاظ یہ ہیں
حَتَّىٰ يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضاً، (صحیح المسلم حدیث نمبر7207)
‘’یہاں تک امت کا ایک گروہ دوسرے گروہ کو ہلاک کرنے لگے۔'’
مذکورہ بالا آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (المائدۃ۔32)
‘’ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔'’
مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کلمہ گو کی جان لے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا۔اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے صبحدم اپنے دشمنوں کو جا لیا اور انہیں شکست دی۔ ان میں سے ایک شخص میرے اور ایک انصاری صحابی کے قابو میں آگیا۔ جب ہم نے اس پر قابو پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا۔ اس پر انصاری صحابی نے اسے چھوڑ دیا لیکن ( میں نے سمجھا کہ وہ جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے اس لیے)میں نےاسے نیزہ مارا اورختم کر دیا۔ پھر ہم واپس ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا ‘’ اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟'’ میں نے عرض کیا ‘’وہ جان بچانا چاہتا تھا۔'’ لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار اس جملے کو دہراتے رہے کہ ‘’ اے اسامہ! تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟'’ حتٰی کہ میں نے تمنا کی کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا (تو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے میرا یہ گناہ ختم ہو جاتا)۔ (بخاری حدیث نمبر4170)
پاکستان میں خودکش حملے
واقعی یہ مضمون بہت ہی تحقیق سےلکھاگیاہےاورہمیں سوچناچاہیےکہ ہم کہاں جارہےہیں۔ ہم کس جگہ کھڑےہیں۔ہرکوئی ایکدوسرےکوکافرکہہ رہاہے۔ایکدوسرےکااحساس بالکل ختم ہوگیاہے۔محبت کاجذبہ سرپڑرہاہے۔کیوں یہ باتیں کیوں ہورہیں ہیں۔کیونکہ ہم دین اسلام سےدورجارہےہیں۔دین اسلام کوہم اپنی زندگی سے”دیس نکالا”دےدیاہے۔زندگی کےہرمیدان میں دیکھ لیں کہ ہرکوئی بس یہی چاہتاہےکہ اس کےپاس پیسےہوں کارہو۔مکان ہولیکن اس بات پرنہیں سوچتاکہ یہ حلال ہے کہ حرام کہاں سےآرہی ہے۔نہیں ہمیں یہ سوچناہےکیونکہ ہم مسلمان ہے اورہماراعقیدہ ہے کہ موت کے بعدحساب کتاب ہوناہے۔توپھرہم کیاجواب دیں گے۔کیاکہیں گےخدارااپنےزندگی کوتبدیل کریں دین اسلام کی رسی کومضبوطی سےتھام لیں اورتفرقہ بازی نہ کریں۔
کراچی میں یہ دودھماکےہوئےہم نےسوچےسمجھےبغیریہ سوچ لیاکہ یہ دھماکےدوسری جماعت نےکروائےہیں۔ جبکہ یہ بات بھی توہوسکتی ہے کہ اس میں غیرملک کاہاتھ ہو۔کیونکہ شیعہ سنی کافساد کرواکرسب سےزیادہ فائدہ کس کوہوناہے۔ہمارےلیڈران توبس بیانات دیتےہیں بس اوردوچاردن اپنی سیاست چمکائیں گےاس کے بعدپھروہی خاموشی پھرکچھ ہوگاتووہی بیانات اورپھروہی خاموشی۔ ہمیں اپنےملک کوبچاناہےتوخودمیدان میں آناہوگادشمن کاخودمقابلہ کرناہوگااپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی۔ کوئي بھی تشویش والی بات دیکھیں تواس کاسدباب کرناہوگا۔ایک دوسرے سےمحبت سےپیش آناہوگا۔اپنےمیں نفرتیں نہیں محبتیں بانٹنی ہوں گی۔ توپھریہ ملک ترقی کرسکتاہے۔ اللہ تعالی سےدعاہے کہ ہمیں وہ حوصلہ دے۔(آمین ثم آمین)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (0)

February 4, 2010

ماں کےمتعلق (اقوال زرین)

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

کتنابدقسمت ہےوہ جوماں کےہوتےہوئےاس کی محبت حاصل نہ کرسکے۔(کارلائیل)
جس کےدل میں مان کےلیئےمحبت ہے وہ زندگی کےکسی بھی موڑپرشکست نہیں کھاسکتا۔
اس کائنات میں ماں وہ واحدہستی ہےجس کی دعااپنےبچوں کےحق میں جلدقبول ہوتی ہے۔(افلاطون)
عورت ماں کےروپ میں اپنےبچوں کی غلطیوں،کمزوریوں اورکوتاہیوں کی انتہائی رازداری کےساتھ پردہ پوشی کرتی ہے۔(واشگٹن)
وہ ہستی جس نےہمیں زندہ رہنےاورآزادی سےزندگی گزارنےکاسبق دیاہوہماری ماں ہے(مولاناشوکت علی)
جوماں کی خدمت محبت کےساتھ کرتاہےاسےیہ یقین کرلیناچاہیےکہ اس کےسرپرہروقت مان کی دعاؤں کاسایہ موجودرہتاہےجواسےہرمشکل سےبچالیتاہے۔
ماں کوکبھی نہ ستاؤ دنیاکاسب سےبڑاگناہ یہی ہے۔(فیثاغورث)
جوشخص یہ چاہتاہےکہ اسےکـبھی دکھ نہ پہنچےتواسےچاہیےکہ وہ اپنی ماں سےمحبت کرے۔(بطلیموس)
مضبوط ارداےماں بناتی ہے۔(شکیپئر)

تبصرے (0)

January 28, 2010

اقوال زرین





السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
اقوال زرین سے مراد تجربات زندگی کا نچوڑ ہے۔ جو کہ انسان کے لۓ ایک تعمت سے کم نہیں ہیں ۔ اللہ تعالی اور حضور اکرمۖ کی تعلیمات کا تو کوئی متبادل ہے ہی نہیں ۔ مگر ان کے علاوہ تمام اقوال بزرگان دین ، علماء کرام ، سیاسی مفکرین نے اپنی اپنی زندگی کے گراں قدر تجرات کی روشنی مین یہ اقوال تیار کۓ ہیں۔ جن پر عمل کر کے زندگی میں اعلی اخلاق اور کردار کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔ مگر ان عطر آمیز شگوفوں کی مہک کا پورا پورا لطف تبھی اٹھایا جا سکتا ہے جب کہ دل کی پہلی کدورت اور دماغ کی سابقہ پراگندگی کو رفع کیا جاۓ۔

الہی تشنہ لب ہیں ہم، ہمارا خضرراہ ہو کر کرم سے تو ہی پہنچا دے ، ہمیں رحمت دریا پر اقوال زریں کے مطالعہ سے علم و اخلاق ، سیرت و تصوف ، فقروتقوی ، مروت زہد و عبادت اور معاملات وغیرہ کے وہ نقطے معلوم اور وہ ، عقدے حل ہو سکتے ہیں جو انسان کی دینی اور دنیاوی زندگی کے لۓ مشعل راہ ہیں اس کی غرض و غایت ایک ایسا دستور العمل پیش کرتا ہے۔ جو انسان کی دینی و دنیاوی امور میں رہنمائی کرنے کے علاوہ اسے کامل اطمینان قلب عطا فرماۓ، شبہات کو پریشانی سے نکالے اور میدان ترقیات میں پیش قدم و کامگار بناۓ لہذا یہ ہر تعلیم یافتہ شخص کے لۓ حسب استعداد و بقدر فہم اس کا ابتداء سے انتہا تک مطالعہ ضروری ہے۔
اقتباس:9999اقوال زرّیں جدید انسائیکلو پیڈیا۔ عامرعلی خاں

سخت سےسخت دل کو ماں کی پرنم آنکھوں سےنرم کیاجاسکتاہے (علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ)




تبصرے (0)

January 26, 2010

تیرےعشق نچائیاں کرکےتھیاتھیا(بلھےشاہ)

تیرےعشق نچائیاں کرکےتھیاتھیا

تیرےعشق نےڈیرامیرےاندرکیتا
بھرکےزہرپیالہ میں تاں آپےپیتا
جھب دےبوھڑیں وےطسانہیں تےمیں مرگیا
تیرےعشق نچائياں کرکےتھیاتھیا
چھپ گیاوےسورج،باھررہ گئی آلالی
وےمیں صدقےہوواں،دیویں مڑجےدکھالی
پیرامیں بھل گئیاں،تیرےنال نہ گئیاں
تیرےعشق نچائياں کرکےتھیاتھیا
ایس عشقےدےکولوں مینوں ہٹمک نہ مائے
لاہورجاندڑےبیڑےکیہڑاموڑلیائے
میری عقل جوبھلی نال مھانیاں دےگئياں
تیرےعشق نچائياں کرکےتھیاتھیا
ایس عشقےدی جھنگی وچ موربولیندا
سانوں قبلہ تےکعبہ سوہنایاردسیندا
سانوں گھائل کرکےپھرخـبرنہ لئیا
تیرےعشق نچائياں کرکےتھیاتھیا
بلھاشوہ نےآندامینوں عنایت دےبوہے
جس نےمینوں پوائےچولےساوےتےسوہے
جاں میں ماری ہےاڈی مل پیاہےوھیا
تیرےعشق نـچائیاکرکےتھیاتھیا
بلھےشاہ
بشکریہ اردوپوائیٹ

تبصرے (0)

January 19, 2010

شیعہ (رافضی ) کافرہے۔(عقیدہ شیعہ) :-

شیعہ (رافضی ) کافرہے۔(عقیدہ شیعہ) :-
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
رب زدنی علما
اردومحفل میں کئی دنوں سےمتعہ پربحث ہورہی ہے میں نےاس تھریڈکےکئی حصےپڑھے ہیں۔ جس میں شیعہ(رافضی)حضرات نےبہت بڑھ چڑھ کرحصہ لیاہےاوریہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہے کہ ہمارےمعاشرےمیں برائی کی جڑیہی ہے اگریہ نافذہوجائےتوسب برائیاں ختم ہوجائیں گی۔ یہ عقیدہ کیونکہ اہلسنت والجماعت کےنزدیک متفقہ طورپرحرام ہے ۔ صرف اورصرف شیعوں(رافضیوں)کےنزدیک نافذالعمل ہے۔ بات تویہ ہے کہ یہ اپنےآپ کوشیعان علی کہتےہیں لیکن ان کےعقائدنعوذبااللہ یہودیوں سےملتےجلتےہیں بلکہ یہ فتنہ تویہودیوں کی ہی پیداوارہے جوکہ ابن سباء یہودی جوکہ یمن کارہنےوالاتھااسکاپھیلایاہواہےاوریہ تیسرےخلیفہ حضرت عثمان غنی (رضی اللہ تعالی عنہ ) کےزمانےسےہیں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت انہی رافضیوں نے ہی کی ہے۔
بات متعہ کی ہورہی تھی تومیرےدوست بات یہ ہے کہ اہم شےتوعقیدہ ہوتاہےمتعہ توایک ثانوی چیز ہے۔اوراس کواہلسنت والجماعت اسی لیےحرام قراردیتی ہےکیونکہ حضرت عمرفاروق(رضی اللہ تعالی عنہ)نےاس کوحرام قراردیا۔یہ توحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ بلکہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ اورحضرت عثمان رضی اللہ تعالی کی خلافت کومانتےہی نہیں ہےانکاکلمہ بھی یہی ظاہرکرتاہےکہ علی رضی اللہ تعالی عنہ بلافصل خلیفہ ہیں(نعوذباللہ)۔
خدارامیرایہ تحریرکرنے کاارادہ برائےاصلاح ہےیہ کچھ کتابیں جوکہ شیعہ(رافضی)کی ہیں اورانکاعقیدہ ان سےظاہرہوتاہےوہ مسلمان کہلانےکےبھی روادارنہیں ہیں۔ہماراتوایمان ہے کہ حضوراکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کےبعدکوئي نبی نہیں وہ نبی آخرزمان ہیں لیکن شعیہ (رافضیوں)کےہاں جوامامت کاعقیدہ ہے وہ سراسرختم نبوت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےخلاف ہے۔ میں یہ چیلنج تمام شعیوں کوکرتاہوں آج تک تمام بڑے علماء نےبھی یہی چیلنج کیاہے کہ وہ اپناعقیدہ ختم نبوت کاپیش کریں۔ لیکن وہ ہوگاتووہ پیش کریں گے۔اورتمام شیعےہی رافضی ہیں کیونکہ جونیچےان کےعقائدپیش کئےجارہےہیں جوکہ انکی معتبرکتابوں میں جوکہ انکےپڑھنےکاجزایمان ہیں ان سےہی لیئےگئےہیں۔ وہ تواماموں کونعوذبااللہ نبی کریم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سےبھی اوپردرجہ دیتےہیں۔ اللہ تعالی ان کوصحیح راہ راست پرلائےاوران کوسیدھی راہ دکھائے(آمین ثم آمین)

عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتاہے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :اصولِ کافی جلد 1صفحہ نمبر 328یعقوب کلینی )
(یہ ان کی حدیث کی کتاب ہے جسطرح ہماری صحیح بخاری ہے۔)
عقیدہ :موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے ۔
(بحوالہ :حیات القلوب جلد 3صفحہ نمبر 10:مصنف :مرزابشارت حسین )
عقیدہ :جمع قرآن جو بعد از رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیاگیا اصولاً غلط ہے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :ہزار تمہاری دس ہماری ص 560عبدالکریم مشتاق کراچی )
عقیدہ :امام مہدی رضی اللہ عنہ جب آئیں گے تو اصلی قرآن لے کر آئیں گے ۔(معاذاللہ )
(بحوالہ :احسن المقال جلد 2ص336صفدر حسین نجضی )
عقیدہ :حضور صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت عائشہ سے حالتِ حیض میں جماع کرتے تھے ۔
(بحوالہ :تحفہ حنفیہ ص72غلام حسین نجضی جامع المنتظر )
عقیدہ :تمام پیغمبرزندہ ہوکر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ماتحت ہوکر جہادکریں گے ۔(معاذاللہ )
(بحوالہ :تفسیر عیاشی جلد اول ص 181)
عقیدہ :حضرت یونس علیہ السلام نے ولا یتِ علی کو قبول نہ کیا جسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :حیات القلوب جلد اول ص459مصنّف :ملا باقر مجلس مطبوعہ تہران )
عقیدہ :مرتبہ امامت مرتبہ پیغمبری سے بالا تر ہے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :حیات القلوب جلد سوم ص 2ملا مجلس مطبوعہ تہران )
عقیدہ :بارہ امام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بقیہ تمام انبیاءکے اُستاد ہیں ۔(معاذاللہ )
(بحوالہ :مجموعہ مجالس ص 29صفدر ڈوگرا سرگودھا )
عقیدہ :حضرت ابو بکر و عمر و عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت ترک کردینے کی وجہ سے مرتد ہوگئے ۔(معاذ اللہ ) (بحوالہ:اصولِ کافی جلد اول حدیث 43ص420مطبوعہ تہران طبع جدید )
(یہ ان کی حدیث کی کتاب ہے جسطرح ہماری صحیح بخاری ہے۔)
عقیدہ :حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے بے حیا اور بے غیرت تھے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :نور الایمان ص75امامیہ کتب خانہ لاہور )
عقیدہ :حضرت ابو بکر و عمر و عثمان کی خلافت کے بارے میں جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے یہ خلافت حق ہے وہ عقیدہ بالکل گدھے کے عضو تنا سل کی مثل ہے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :حقیقت فقہ حنفیہ ص 72غلام حسین نجضی )
عقیدہ :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تین صحابہ کے علاوہ باقی سب مرتد ہوگئے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :روزہ کا فی جلد 8ص245حدیث 341)
عقیدہ :حضرت عباس اور حضرت عقیل ذلیل النفس اور کمزور ایمان والے تھے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :حیات القلوب جلد 2ص618مطبوعہ تہران طبع جدید )
عقیدہ :معاویہ کی ماں کے چار یار تھے اسلئے سنّی چار یار کا نعرہ لگاتے ہیں ۔
(خصائل معاویہ ص34مصنف :غلام حسین نجضی لاہور )
عقیدہ :عائشہ طلحہ و زبیر واجب القتل تھے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :کتاب بغاوتِ بنو امیّہ و معاویہ ص 474مصنف :غلام حسین نجضی )
عقیدہ :حضرت عائشہ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ شریعت و شیعت ص 45مصنف :عرفان حید ر عابدی کرادمی )
عقیدہ :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر و باطن میں تضاد تھا ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :تفسیر عیاشی جلد 2ص 101از:محمد بن مسعود عیاشی )
عقیدہ :اللہ تعالیٰ نے پیغام رسالت دیکر جبرائیل کو بھیجا کہ علی رضی اللہ عنہ کو پیغام رسالت دو لیکن جبرائیل بھول کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گئے ۔(معاذ اللہ )
(بحوالہ :انوار نعمانیہ ص237از:نعمت اللہ جبرائری )
عقیدہ :جس نے ایک دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے دو دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے تین دفعہ کیا اسکا درجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر۔جس نے چار دفعہ متعہ کیا اسکا درجہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے برابرہو جاتاہے ۔ (معاذاللہ ) (بحوالہ:برہانِ متعہ ثوابِ متعہ ص 52)
عقیدہ :شیعہ مذہب کا کلمہ اسلامی کلمہ کے خلاف ہے شیعہ مذہب کا کلمہ یہ ہے ۔
”لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ علی ولی اللّٰہ وصی رسول اللّٰہ و خلیفۃ بلا فصل “
ترجمہ :اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ،یہی علی اللہ کے ولی اور رسول کے بلافصل خلیفہ ہیں ۔

کوئی بھی مسلمان جوکہ تھوڑی بہت عقل رکھتاہے وہ ان عقائدکوسن کرپڑھ کرکبھی بھی ان کے جال میں نہیں آئےگا(انشاء اللہ تعالی)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (0)

January 11, 2010

حدیث نبوی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

1141: - مجھ سےمحمد بن مثنی نےبیان کیا،کہاہم کومعاذ بن معاذ نےخبردی،کہاہم سےسلیمان بن تیمی نےبیان کیاکہا ہم کوانس بن مالک نےخبردی،پھرایسی ہی حدیث بیان کی۔
1142: - ہم سےعلی بن عبداللہ مدینی نےبیان کیاکہاانہوں نےکہامیں نےیوسف بن ماجشون سےیہ حدیث لکھی انہوں نےصالح کے داداعبدالرحمان بن عوف سےپھریہی قصہ عضراء کےدونوں بیٹوں کابیان کیا۔
1143: - مجھ سےمحمد بن عبداللہ رقاشی نےبیان کیا،کہاہم سےمتعمربن سلیمان نےکہامیں نےوالدسےسناوہ کہتےتھے،ہم سےابومجلز(لاحق بن حمید)نےبیان کیاانہوں نےقیس بن عبادسےانہوں نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سےانہوں نےکہاقیامت کےدن سب سےپہلےمیں پروردگارکےسامنےجھگڑاچکانےکےلئےدوزانوبیٹھوں گا۔قیس بن عبادنےکہااسی باب میں(سورۃ حج کی)یہ آيت اتری یہ دوفریق ہیں ایک دوسرےکےدشمن جواپنےپروردگارکےمقدمہ میں جھگڑے،دونوں فریق سےمرادوہ لوگ ہیں جوبدرکےدن لڑنےکےلئےنکلے،ایک طرف حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اورعلی رضی اللہ تعالی عنہ اورعبیدہ یاابوعبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب(مسلمانوں کی طرف سے)اور(دوسری طرف سے)شیبہ اورعتبہ،ربیعہ کےبیٹےاورولیدبن عتبہ۔
1144: - ہم سےقبیصہ نےبیان کیاکہاہم سےسفیان ثوری نے،انہوں نےابوہاشم سے،انہوں نےابومجلزسے،انہوں نےقیس بن عبادسے،انہوں نےابوذرغفاری رضی اللہ تعالی عنہ سےانہوں نےکہا(سورہ حج کی )یہ آيت یہ دوفریق ہیں۔ایکدوسرےکےدشمن،اخیرتک قریش کے چھ آدمیوں کےباب میں اتری علی رضی اللہ تعالی عنہ اورحمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اورعبیدہ بن حارث ایک فریق اورشیبہ بن ربیعہ اورعتبہ بن ابی ربیعہ اورولیدبن عتبہ ایک طرف۔
1145 : - ہم سےاسحاق بن ابراہیم صواف نےبیان کیاکہاہم سےیوسف بن یعقوب نےوہ بنی ضبیعہ کےمحلہ میں اتراکرتےتھےاوربنی سدوس کےغلام تھے،انہوں نےکہاہم سےسلیمان بن طرخان نےبیان کیا،انہوں نےابومجلزسےانہوں نےقیس بن عباد سےانہوں نےکہاحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نےکہا(سورۃ حج کی)یہ آیت دوفریق ہیں،ایک دوسرے کےدشمن اخیرتک،ہم لوگوں کےباب میں اتری۔
1146 : - ہم سےیحیی بن جعفرنےبیان کیا،کہاہم کووکیع بن جراح نےخبردی،انہوں نےسفیان ثوری سے،انہوں نےابوہاشم سے،انہوں نےابومجلزسے،انہوں نےقیس بن عبادسے،انہوں نےکہامیں نےابوذرسےسناوہ قسم کھاکرکہتےتھے۔یہ آیتیں ہذان خصمان اخیر(تین آتیوں تک)ان چھ آدمیوں کےباب میں اتری جوبدرکےدن مقابل ہوئےتھےایسی ہی حدیث بیان کی جیسےاوپرگزری۔
1147: - ہم سےیعقوب بن ابراہیم نےبیان کیاکہاہم سےہشیم نےکہاہم کوابوہاشم نےخبردی،انہوں نےابومجلزسے،انہوں نےقیس سےکہامیں نےابوذررضی اللہ عنہ سےسناوہ قسم کھاکرکہتےتھے۔یہ آیت ہذان خصمان اختصموانی ربھم(سورۃ حج)ان لوگوں کےباب میں اتری جوبدرکےدن لڑنےکےلئےنکلےتھے۔حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اورعلی رضی اللہ تعالی عنہ اورعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ(مسلمانوں کی طرف سے)اورعتبہ اورشیبہ اورربیعہ کےبیٹے تھےاورولیدبن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
1148: - مجھ سےاحمد بن سعیدابوعبداللہ اشقرنےبیان کیا،کہاہم سےاسحاق بن منصورسلوبی نےکہاہم سےابراہیم بن یوسف نےاپنےوالد(یوسف بن اسحاق)سےانہوں نےاپنےدادااسحاق سبیعی سے،انہوں نےکہاایک شخص (نام نامعلوم)نےمیرے سامنےبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہماسےپوچھاکیاحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بدرکی لڑائی میں شریک تھے؟انہوں نےکہاہاں شریک کیامقابلہ کےلئے میدان میں نکلےتھےاورتلےاوپردوزرہیں پہنےتھے۔
1149: - ہم سےعبدالعزیزبن عبداللہ اویسی نےبیان کیاکہامجھ سےیوسف بن ماجشون نےانہوں نےصالح بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف سےانہوں نےاپنےوالد(ابراہیم) سےانہوں نےصالح کےداداعبدالرحمان بن عوف سے،انہوں نےکہامجھ سےاورامیہ بن خلف سےایک تحریرہوگئی تھی پھربدرکےدن امیہ اوراس کےبیٹے(علی)کےقتل ہونےکاقصہ بیان کیااوریہ کہابلال بدرکےدن مسلمانوں سےکہنےلگےاگرامیہ بن خلف بچ گیاتومیں(آخرت میں عذاب سے)بچ نہیں سکتا۔
1150 : - ہم سےعبدان نےبیان کیاکہامجھ سےمیرےوالد(عثمان بن حیلہ)نےانہوں نےشعبہ سےانہوں نےابواسحاق سبیعی سےانہوں نےاسودبن یزیدنخعی سے،انہوں نےعبداللہ بن مسعودسے،انہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےسورہ النجم پڑھی،اس میں سجدہ کیاآپ کےساتھ(اس وقت)جتنےلوگ تھے(مسلمان کافر)سب نےسجدہ کیامگرایک بڈھے(امیہ بن خلف)نےکیاکیاایک مٹھی لی اوراپنی پیشانی سےلگالی۔کہنےلگابس یہ کافی ہے(سجدہ کےبدل)عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ کہتےہیں میں نےاس بڈھےکواخیرمیں دیکھا(بدرکےدن)کفرکی حالت میں ماراگیا۔
1151: - مجھ کوابراہیم بن موسی نےخبردی کہاہم سےہشام بن یوسف نےبیان کیا،انہوں نےمعمرسے،انہوں نےہشام سےانہوں نےاپنےوالد(عروہ بن زبیررضی اللہ تعالی عنہ)سےانہوں نےکہازبیرکوتین گہرےزخم لگےتھے۔ان میں ایک مونڈھےپرتھامیں(بچپنےمیں)اپنی انگلیاں اس میں گھسیڑاکرتاتھا۔عروہ نےکہاجب عبداللہ بن زبیر(حجاج ظالم کےہاتھوں)شہیدہوئےتوعبدالملک بن مروان مجھ سےپوچھنے لگاعروہ تم اپنے والدزبیرکی تلوارپہنچان سکتےہو؟میں نےکہاہاں!اس نےکہااس کی نشانی کیاہے؟میں نےکہابدرکی لڑائی میں اس کی دھارایک طرف سےذراٹوٹ گئی تھی۔عبدالملک نےکہا،عروہ توسچ کہتاہے۔پھرنابغہ شاعرکایہ مصرعہ پڑھا۔لڑتےلڑتےان کی تلواروں کی دھاریں ٹوٹی ہیں۔پھرعبدالملک نےوہ تلوارعروہ کودےدی۔ہشام بن عروہ کہتےہیں ہم نےآپس میں اس تلوارکی قیمت لگائی توتین ہزاردرہم اس کی قیمت اٹھی اورہمارےلوگوں میں سےایک شخص(عثمان بن عروہ) نے(یہ قیمت دےکر)وہ تلوارلےلی،مجھےآرزورہ گئي(کاش)میں اس کولےلیتا۔
1152: - ہم سےفروہ بن ابی المغراءنےبیان کیا،انہوں نےعلی بن مسہرسے،انہوں نےہشام سے،انہوں نےاپنےوالدعروہ سے،انہوں نےکہامیرےوالد(زبیر)کی تلوارپرچاندی کازیورتھا۔ہشام کہتےہیں میرےوالدعروہ کی تلوارپربھی چاندی کازیورتھا(شایدوہی زبیرکی تلوارہوگی)
1153 : - ہم سےاحمدبن محمدنےبیان کیاکہاہم سےعبداللہ بن مبارک نےکہاہم سےہشام بن عروہ نےخبردی،انہوں نےاپنےوالدسےانہوں نےکہاایساہوایرموک کی جنگ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کےصحابہ نےزبیررضی اللہ تعالی عنہ سےکہاچلوکافروں پرحملہ کرو،ہم تمہارےساتھ حملہ کریں گے،انہوں نےکہادیکھومیں حملہ کروں تم نہ کروتوجھوٹےہوگے۔انہوں نےکہانہیں ہم(ضرورحملہ کریں گے)جھوٹےنہیں بننےکے۔خیرزبیرنےحملہ کیا،اورکافروں کی صفیں چیرتےہوئےان کومارتےہوئےپارنکل گئے،ان کےساتھ کوئی ایک بھی نہ رہا،پھروہاں سےاپنےلوگوں کی طرف لوٹےتوروم کےکافروں نےان کےگھوڑےکی باگ تھام لی،اوران کے مونڈھےپردوماریں لگائيں،ان ماروں کےبیچ میں وہ مارتھی جوبدرکےدن لگی تھی،عروہ کہتےہیں میں(بچپنےمیں)ان زخموں میں انگلیاں ڈال کرکھیلاکرتاتھا۔عروہ نےکہایرموک کی لڑائی میں زبیررضی اللہ تعالی عنہ کےساتھ عبداللہ بن زبیربھی تھے۔حالانکہ ان کی عمراس وقت دس(بارہ)برس کی تھی،زبیرنےعبداللہ کوایک گھوڑےپرسوارکرکے(حفاظت کےلئے)ایک شخص کےسپردکردیاتھا۔
1154: - مجھ سےعبداللہ بن محمدمسندی نےبیان کیا،انہوں نےروح بن عبادہ سےسناکہاہم سےسعیدبن ابی عروبہ نےبیان کیاانہوں نےقتادہ سےانوہں نےکہاانس نےابوطلحہ انصاری سےنقل کیاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےبدرکےدن قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کوبدرکےکنوؤں مین سےایک گندےناپاک کرنےوالےکنویں میں پھینک دینےکاحکم دیااورآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کاقاعدہ تھاجب کسی قوم پرغالب آتےتوتین راتیں انہی کےمقام مین تیرکرتے(گزارتے)بدر میں بھی تین دن رہے۔تیسرےدن آپ نےحکم دیا،اونٹنی پرزین کساگیاپھرآپ چلے۔آپ کےساتھ اصحاب بھی چلے،وہ سمجھےشائدآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کسی کام کےلئےجارہےہیں،خیرآپ چلتےچلتےاس کنویں کےمنڈیرپرکھڑےہوئےاورقریش کےکافروں کونام بنام آوازدینےلگے،ان کانام لیتے اوران کےباپوں کا،فرماتےفلاں فلانےکےبیٹے،فلانےفلانےکےبیٹے!اب تم کویہ اچھالگتاہےکہ تم اللہ اوراس کے رسول کافرمانامان لیتے،ہم سےتوجس ثواب اوراجرکاہمارےمالک نےوعدہ کیاتھاوہ ہم نےپالیا۔تم سےجس عذاب کاپروردگارنےوعدہ کیاتھاتم نےبھی اس کوپالیایانہیں۔ابوطلحہ نےکہایہ سن کرحضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کیایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آپ ایسی لاشوں سےبات کرتےہیں جن میں جان نہیں(بھلاوہ کیاسنیں گے)آپ نےفرمایاقسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی جان ہے،میں یہ جوباتیں کررہاہوں تم ان کوان سےزیادہ نہیں سنتے،(انہی کےبرابرسنتےہو)قتادہ نےاس حدیث کوتفیسرمیں یہ کہااللہ نےاس وقت مردوں کوجگادیاتھا،ان کوتنبیہ کرنےاورذلیل کرنےاوربدلہ لینےاورافسوس دلانےاورشرمندہ کرنےکےلئے۔
1155: - ہم سےعبداللہ بن زبیرحمیدی نےبیان کیا،کہاہم سےسفیان بن عینیہ نےکہاہم سےعمروبن دینارنے،انہوں نےعطابن ابی رباح سے،انہوں نےعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسےانہوں(سورۃ ابراہیم علیہ السلام کی)اس آیت کی تفیسرمین کہااےپیغمبر!کیاتونےان لوگوں کونہیں دیکھا،جنہوں نےاللہ کےاحسان کےبدل ناشکری کی،قسم خداکی ان لوگوں میں سےمرادقریش کےکافرہیں۔عمروبن دینارنےکہا(اس آیت میں)لوگوں سےمرادقریش ہیں،اوراللہ کےاحسان سےمرادآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی ذات ہے۔دارالبوارسےمراددوزخ ہےیعنی بدرکےدن ان لوگوں نےاپنی قوم کودوزخ رسیدکیا۔
1156: - مجھ سےعبیدبن اسماعیل نےبیان کیاکہاہم سےابواسامہ نےانہوں نےہشام سےانہوں نےاپنےوالدعروہ سےانہوں نےکہاحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماکےسامنےآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےاس ارشادکاذکرآیاکہ مردےپراس کےعزیزوں کےرونےسےعذاب ہوتاہے۔انہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےیہ فرمایاہےکہ مردےپراپنی خطاؤں اورگناہوں کی وجہ سےعذاب ہوتاہےاوراس کے عزیزاس پرروتےرہتےہیں(ان کویہ خبرنہیں کہ مردےکاکیاحال ہے)اوریہ ویساہی مضمون ہےجیسےعبداللہ بن عمرکہتےہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بدرکےگڑھےپرکھڑےہوئےاس میں مشرکوں کی لاشیں تھیں جوبدرکےدن مارےگئےتھےآپ نےفرمایاوہ میراکہناسن رہےہیں،حالانکہ آپ نےیہ فرمایاتھاکہ اب ان کومعلوم ہوگیاجومیں کہتاتھا(شرک چھوڑواللہ پرایمان لاؤ)سچ تھا۔پھرحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہمانے(سورۃ نمل کی)یہ آیت اےپیغمبر!تومردوں کواپنی بات نہیں سناسکتا(اورسورۃ فاطرکی)یہ آیت اےپیغمبرتوقبروالوں کواپنی بات نہیں سناسکتا،پڑھی۔عروہ کہتےہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماکامطلب مردوں کانہ سناسکنےسے(جس کابیان ان آیتوں میں ہے)یہ کہ کہ جب وہ دوزخ میں اپنےٹھکانےپہنچ جائيں گے۔
1157: - مجھ سےعثمان بن ابی شیبہ نےبیان کیاکہاہم سےعبدہ بن سلیمان نےانہوں نےہشام سےانہوں نےاپنےوالدعروہ سےانہوں نےعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسےانہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)بدرکے کنویں پرکھڑےہوئےاور(مشرکوں کوجومارےگئےتھے،مخاطب کرکے)فرمایایہ تمہارےپروردگارنےجوتم سےوعدہ کیاتھا،وہ تحقیق تم نےپایا،پھرفرمایایہ لوگ اس وقت میراکہناسنتےہیں ابن عمرکی یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماسےبیان کی گئی، توانہوں نےکہا،آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےیوں فرمایاتھا،ان لوگوں کواب معلوم ہوگیاجومیں ان سےکہتاتھاوہ سچ تھا،پھرانہوں نے(سورۃ نمل کی)یہ آیت پڑھی،اےپیغمبرتومردوں کونہیں سناسکتا،اخیرتک۔
باب: 477: - جوصحابہ جنگ بدرمیں شریک ہوئےان کی فضیلت۔
1158: - مجھ سےعبداللہ بن مسندی نےبیان کیاکہاہم سےمعاویہ بن عمرونےکہا،ہم سےابواسحاق(ابراہیم بن محمدقراری)نےانہوں نےحمیدطویل سےانہوں نےکہامیں نےانس رضی اللہ تعالی عنہ سےسناوہ کہتےتھےحارثہ بن سراقہ بدرکےدن شہیدہوئےوہ لڑکےتھے۔ان کی والدہ ربیع بنت نضرانس کی پھوپھی تھیں،آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کےپاس آئیں کہنےلگیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آپ جانتےہیں حارثہ سےمجھ کوکیسی محبت تھی،اب اگروہ بہشت میں(چین سے)ہےتومیں صبرکروں،ثواب کی امیدرکھو!اگرکسی اور(برے)حال میں ہےتوآپ دیکھئےمیں کیاکرتی ہوں(کیساروتی پیٹتی ہوں)آپ نےفرمایاافسوس کیاتودیوانی ہے۔کیابہشت ایک ہی سمجھی ہے(اللہ کی بہت سی بہشتیں ہیں)اورتیرابیٹاحارثہ توفردوس میں ہے۔
1159: - مجھ سےاسحاق بن راہویہ نےبیان کیا،کہاہم کوعبداللہ بن ادریس نےخـبردی،کہامیں نےحصین بن عبدالرحمان (عبداللہ بن حبیب)سلمی سےانہوں نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سےانہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےمجھ کواورابومرثدغنوی اورزبیر(تینوں)کوبھیجا۔تینوں گھوڑےپرسوارتھے۔فرمایاروضہ خاخ میں جاؤ(جوایک مقام کانام ہےمکہ مدینہ کےدرمیان)وہاں ایک مشرک عورت ملےگی(اس کانام سارہ تھا)اس کےپاس حاطب بن ابی بلتعہ کاایک خط ہے(مکہ کے)مشرکوں کےنام پروہ اس سےلےآؤحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہتےہیں (ہم چلےروضہ خاخ میں)جہاں آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےفرمایاتھاوہیں ہم نےاس کوپایاوہ ایک اونٹ پرجارہی تھی ہم نےاس سےکہالاخط نکال،اس نےکہامیرےپاس توکوئی خط نہیں ہے۔ہم نےاس کااونٹ بٹھایاتلاشی لی توکوئی خط نہ ملا،آخرہم نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کافرماناجھوٹ نہیں ہوسکتا،خط نکال نہیں توہم تجھےننگاکرکےدیکھیں گےجب اس نےاتنی سختی دیکھی تو(مجبورہوکر)اپنےنیفےپرہاتھ ڈالاایک چادرکی تہ بندباندھےہوئےتھی اورخط نکال کردیا۔خیرہم وہ لےکرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےپاس آئے(خط پڑھاگیا)حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کیا،یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) حاطب نےاللہ اوراس کےرسول اورمسلمانوں سےخیانت(دغابازی)کی آپ اجازت دیجئےمیں اس کی گردن اڑادیتاہوں،آپ نے(حاطب کوبلاکران سے)پوچھاحاطب تونےیہ کیاکیا؟حاطب رضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کیاخداکی قسم بھلامجھ کوکیاجنون ہواہے کہ میں اللہ اوررسول پرایمان نہ رکھوں(یاخداکی قسم میں تودل سےاللہ اوررسول پرایمان رکھتاہوں)میری غرض اس خط کےلکھنےسےصرف اتنی ہی تھی کہ قریش کےکافروں پرمیراکچھ احسان ہوجائے۔اس کے لحاظ سےمیرےبال بچوں،جائدادوغیرہ کو(تباہ نہ کریں)اللہ ان کےہاتھ بچائےرکھے،آپ جانتےہیں آپ کےدوسرےاصحاب کے(مکہ میں)عزیزواقارب ہیں جن کی وجہ ان کاگھربارمال سب (بچاہواہے)اللہ بچاتاہے(میراکوئی ایساعزیزوہاں نہ تھا)۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے(حاطب کابیان سن کر)فرمایاسچ کہتاہےاس کواچھاہی کہو(مسلمان سمجھو،منافق وغیرہ ایسےلفظ نہ کہو)حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نےپھرعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اس نےاللہ اوررسول اورمسلمانوں کےساتھ دغابازی کی ۔حکم دیجئےمیں اس کی گردن اڑادوں۔آپ نےفرمایاحاطب بدرکی لڑائی میں شریک تھا(تم کومعلوم نہیں)اللہ نے(آسمان پرسے)بدروالوں کودیکھافرمایااب تم جیسےچاہو(اچھےبرے)کام کروتمہارےلئےتوبہشت واجب ہوگئی ۔ یامیں نےتم کوبخش دیا۔یہ سنتےہی حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ آب دیدہ ہوگئےاورکہنےلگےاللہ اوراس کارسول ہرکام کی مصلحت خوب جانتاہے۔
باب نمبر478:-
1160: - مجھ سےعبداللہ بن محمدجعفی نےبیان کیاکہاہم سےابواحمدزبیری نےکہاہم سےعبدالرحمان بن غسیل نے،انہوں نےحمزہ بن ابی اسیداورزبیربن منذربن ابی اسیدسےانہوں نےابواسید(مالک بن ربیعہ)سےانہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےبدرکےدن ہم لوگوں سےفرمایاجب کافرتمہارےقریب آجائيں(زدپر)اس وقت تیرمارواوراپنےتیروں کوبچائےرکھو۔

تبصرے (0)

حدیث نبوی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

1141: - مجھ سےمحمد بن مثنی نےبیان کیا،کہاہم کومعاذ بن معاذ نےخبردی،کہاہم سےسلیمان بن تیمی نےبیان کیاکہا ہم کوانس بن مالک نےخبردی،پھرایسی ہی حدیث بیان کی۔
1142: - ہم سےعلی بن عبداللہ مدینی نےبیان کیاکہاانہوں نےکہامیں نےیوسف بن ماجشون سےیہ حدیث لکھی انہوں نےصالح کے داداعبدالرحمان بن عوف سےپھریہی قصہ عضراء کےدونوں بیٹوں کابیان کیا۔
1143: - مجھ سےمحمد بن عبداللہ رقاشی نےبیان کیا،کہاہم سےمتعمربن سلیمان نےکہامیں نےوالدسےسناوہ کہتےتھے،ہم سےابومجلز(لاحق بن حمید)نےبیان کیاانہوں نےقیس بن عبادسےانہوں نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سےانہوں نےکہاقیامت کےدن سب سےپہلےمیں پروردگارکےسامنےجھگڑاچکانےکےلئےدوزانوبیٹھوں گا۔قیس بن عبادنےکہااسی باب میں(سورۃ حج کی)یہ آيت اتری یہ دوفریق ہیں ایک دوسرےکےدشمن جواپنےپروردگارکےمقدمہ میں جھگڑے،دونوں فریق سےمرادوہ لوگ ہیں جوبدرکےدن لڑنےکےلئےنکلے،ایک طرف حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اورعلی رضی اللہ تعالی عنہ اورعبیدہ یاابوعبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب(مسلمانوں کی طرف سے)اور(دوسری طرف سے)شیبہ اورعتبہ،ربیعہ کےبیٹےاورولیدبن عتبہ۔
1144: - ہم سےقبیصہ نےبیان کیاکہاہم سےسفیان ثوری نے،انہوں نےابوہاشم سے،انہوں نےابومجلزسے،انہوں نےقیس بن عبادسے،انہوں نےابوذرغفاری رضی اللہ تعالی عنہ سےانہوں نےکہا(سورہ حج کی )یہ آيت یہ دوفریق ہیں۔ایکدوسرےکےدشمن،اخیرتک قریش کے چھ آدمیوں کےباب میں اتری علی رضی اللہ تعالی عنہ اورحمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اورعبیدہ بن حارث ایک فریق اورشیبہ بن ربیعہ اورعتبہ بن ابی ربیعہ اورولیدبن عتبہ ایک طرف۔
1145 : - ہم سےاسحاق بن ابراہیم صواف نےبیان کیاکہاہم سےیوسف بن یعقوب نےوہ بنی ضبیعہ کےمحلہ میں اتراکرتےتھےاوربنی سدوس کےغلام تھے،انہوں نےکہاہم سےسلیمان بن طرخان نےبیان کیا،انہوں نےابومجلزسےانہوں نےقیس بن عباد سےانہوں نےکہاحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نےکہا(سورۃ حج کی)یہ آیت دوفریق ہیں،ایک دوسرے کےدشمن اخیرتک،ہم لوگوں کےباب میں اتری۔
1146 : - ہم سےیحیی بن جعفرنےبیان کیا،کہاہم کووکیع بن جراح نےخبردی،انہوں نےسفیان ثوری سے،انہوں نےابوہاشم سے،انہوں نےابومجلزسے،انہوں نےقیس بن عبادسے،انہوں نےکہامیں نےابوذرسےسناوہ قسم کھاکرکہتےتھے۔یہ آیتیں ہذان خصمان اخیر(تین آتیوں تک)ان چھ آدمیوں کےباب میں اتری جوبدرکےدن مقابل ہوئےتھےایسی ہی حدیث بیان کی جیسےاوپرگزری۔
1147: - ہم سےیعقوب بن ابراہیم نےبیان کیاکہاہم سےہشیم نےکہاہم کوابوہاشم نےخبردی،انہوں نےابومجلزسے،انہوں نےقیس سےکہامیں نےابوذررضی اللہ عنہ سےسناوہ قسم کھاکرکہتےتھے۔یہ آیت ہذان خصمان اختصموانی ربھم(سورۃ حج)ان لوگوں کےباب میں اتری جوبدرکےدن لڑنےکےلئےنکلےتھے۔حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اورعلی رضی اللہ تعالی عنہ اورعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ(مسلمانوں کی طرف سے)اورعتبہ اورشیبہ اورربیعہ کےبیٹے تھےاورولیدبن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
1148: - مجھ سےاحمد بن سعیدابوعبداللہ اشقرنےبیان کیا،کہاہم سےاسحاق بن منصورسلوبی نےکہاہم سےابراہیم بن یوسف نےاپنےوالد(یوسف بن اسحاق)سےانہوں نےاپنےدادااسحاق سبیعی سے،انہوں نےکہاایک شخص (نام نامعلوم)نےمیرے سامنےبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہماسےپوچھاکیاحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بدرکی لڑائی میں شریک تھے؟انہوں نےکہاہاں شریک کیامقابلہ کےلئے میدان میں نکلےتھےاورتلےاوپردوزرہیں پہنےتھے۔
1149: - ہم سےعبدالعزیزبن عبداللہ اویسی نےبیان کیاکہامجھ سےیوسف بن ماجشون نےانہوں نےصالح بن ابراہیم بن عبدالرحمان بن عوف سےانہوں نےاپنےوالد(ابراہیم) سےانہوں نےصالح کےداداعبدالرحمان بن عوف سے،انہوں نےکہامجھ سےاورامیہ بن خلف سےایک تحریرہوگئی تھی پھربدرکےدن امیہ اوراس کےبیٹے(علی)کےقتل ہونےکاقصہ بیان کیااوریہ کہابلال بدرکےدن مسلمانوں سےکہنےلگےاگرامیہ بن خلف بچ گیاتومیں(آخرت میں عذاب سے)بچ نہیں سکتا۔
1150 : - ہم سےعبدان نےبیان کیاکہامجھ سےمیرےوالد(عثمان بن حیلہ)نےانہوں نےشعبہ سےانہوں نےابواسحاق سبیعی سےانہوں نےاسودبن یزیدنخعی سے،انہوں نےعبداللہ بن مسعودسے،انہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےسورہ النجم پڑھی،اس میں سجدہ کیاآپ کےساتھ(اس وقت)جتنےلوگ تھے(مسلمان کافر)سب نےسجدہ کیامگرایک بڈھے(امیہ بن خلف)نےکیاکیاایک مٹھی لی اوراپنی پیشانی سےلگالی۔کہنےلگابس یہ کافی ہے(سجدہ کےبدل)عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ کہتےہیں میں نےاس بڈھےکواخیرمیں دیکھا(بدرکےدن)کفرکی حالت میں ماراگیا۔
1151: - مجھ کوابراہیم بن موسی نےخبردی کہاہم سےہشام بن یوسف نےبیان کیا،انہوں نےمعمرسے،انہوں نےہشام سےانہوں نےاپنےوالد(عروہ بن زبیررضی اللہ تعالی عنہ)سےانہوں نےکہازبیرکوتین گہرےزخم لگےتھے۔ان میں ایک مونڈھےپرتھامیں(بچپنےمیں)اپنی انگلیاں اس میں گھسیڑاکرتاتھا۔عروہ نےکہاجب عبداللہ بن زبیر(حجاج ظالم کےہاتھوں)شہیدہوئےتوعبدالملک بن مروان مجھ سےپوچھنے لگاعروہ تم اپنے والدزبیرکی تلوارپہنچان سکتےہو؟میں نےکہاہاں!اس نےکہااس کی نشانی کیاہے؟میں نےکہابدرکی لڑائی میں اس کی دھارایک طرف سےذراٹوٹ گئی تھی۔عبدالملک نےکہا،عروہ توسچ کہتاہے۔پھرنابغہ شاعرکایہ مصرعہ پڑھا۔لڑتےلڑتےان کی تلواروں کی دھاریں ٹوٹی ہیں۔پھرعبدالملک نےوہ تلوارعروہ کودےدی۔ہشام بن عروہ کہتےہیں ہم نےآپس میں اس تلوارکی قیمت لگائی توتین ہزاردرہم اس کی قیمت اٹھی اورہمارےلوگوں میں سےایک شخص(عثمان بن عروہ) نے(یہ قیمت دےکر)وہ تلوارلےلی،مجھےآرزورہ گئي(کاش)میں اس کولےلیتا۔
1152: - ہم سےفروہ بن ابی المغراءنےبیان کیا،انہوں نےعلی بن مسہرسے،انہوں نےہشام سے،انہوں نےاپنےوالدعروہ سے،انہوں نےکہامیرےوالد(زبیر)کی تلوارپرچاندی کازیورتھا۔ہشام کہتےہیں میرےوالدعروہ کی تلوارپربھی چاندی کازیورتھا(شایدوہی زبیرکی تلوارہوگی)
1153 : - ہم سےاحمدبن محمدنےبیان کیاکہاہم سےعبداللہ بن مبارک نےکہاہم سےہشام بن عروہ نےخبردی،انہوں نےاپنےوالدسےانہوں نےکہاایساہوایرموک کی جنگ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کےصحابہ نےزبیررضی اللہ تعالی عنہ سےکہاچلوکافروں پرحملہ کرو،ہم تمہارےساتھ حملہ کریں گے،انہوں نےکہادیکھومیں حملہ کروں تم نہ کروتوجھوٹےہوگے۔انہوں نےکہانہیں ہم(ضرورحملہ کریں گے)جھوٹےنہیں بننےکے۔خیرزبیرنےحملہ کیا،اورکافروں کی صفیں چیرتےہوئےان کومارتےہوئےپارنکل گئے،ان کےساتھ کوئی ایک بھی نہ رہا،پھروہاں سےاپنےلوگوں کی طرف لوٹےتوروم کےکافروں نےان کےگھوڑےکی باگ تھام لی،اوران کے مونڈھےپردوماریں لگائيں،ان ماروں کےبیچ میں وہ مارتھی جوبدرکےدن لگی تھی،عروہ کہتےہیں میں(بچپنےمیں)ان زخموں میں انگلیاں ڈال کرکھیلاکرتاتھا۔عروہ نےکہایرموک کی لڑائی میں زبیررضی اللہ تعالی عنہ کےساتھ عبداللہ بن زبیربھی تھے۔حالانکہ ان کی عمراس وقت دس(بارہ)برس کی تھی،زبیرنےعبداللہ کوایک گھوڑےپرسوارکرکے(حفاظت کےلئے)ایک شخص کےسپردکردیاتھا۔
1154: - مجھ سےعبداللہ بن محمدمسندی نےبیان کیا،انہوں نےروح بن عبادہ سےسناکہاہم سےسعیدبن ابی عروبہ نےبیان کیاانہوں نےقتادہ سےانوہں نےکہاانس نےابوطلحہ انصاری سےنقل کیاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےبدرکےدن قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کوبدرکےکنوؤں مین سےایک گندےناپاک کرنےوالےکنویں میں پھینک دینےکاحکم دیااورآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کاقاعدہ تھاجب کسی قوم پرغالب آتےتوتین راتیں انہی کےمقام مین تیرکرتے(گزارتے)بدر میں بھی تین دن رہے۔تیسرےدن آپ نےحکم دیا،اونٹنی پرزین کساگیاپھرآپ چلے۔آپ کےساتھ اصحاب بھی چلے،وہ سمجھےشائدآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کسی کام کےلئےجارہےہیں،خیرآپ چلتےچلتےاس کنویں کےمنڈیرپرکھڑےہوئےاورقریش کےکافروں کونام بنام آوازدینےلگے،ان کانام لیتے اوران کےباپوں کا،فرماتےفلاں فلانےکےبیٹے،فلانےفلانےکےبیٹے!اب تم کویہ اچھالگتاہےکہ تم اللہ اوراس کے رسول کافرمانامان لیتے،ہم سےتوجس ثواب اوراجرکاہمارےمالک نےوعدہ کیاتھاوہ ہم نےپالیا۔تم سےجس عذاب کاپروردگارنےوعدہ کیاتھاتم نےبھی اس کوپالیایانہیں۔ابوطلحہ نےکہایہ سن کرحضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کیایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آپ ایسی لاشوں سےبات کرتےہیں جن میں جان نہیں(بھلاوہ کیاسنیں گے)آپ نےفرمایاقسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی جان ہے،میں یہ جوباتیں کررہاہوں تم ان کوان سےزیادہ نہیں سنتے،(انہی کےبرابرسنتےہو)قتادہ نےاس حدیث کوتفیسرمیں یہ کہااللہ نےاس وقت مردوں کوجگادیاتھا،ان کوتنبیہ کرنےاورذلیل کرنےاوربدلہ لینےاورافسوس دلانےاورشرمندہ کرنےکےلئے۔
1155: - ہم سےعبداللہ بن زبیرحمیدی نےبیان کیا،کہاہم سےسفیان بن عینیہ نےکہاہم سےعمروبن دینارنے،انہوں نےعطابن ابی رباح سے،انہوں نےعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسےانہوں(سورۃ ابراہیم علیہ السلام کی)اس آیت کی تفیسرمین کہااےپیغمبر!کیاتونےان لوگوں کونہیں دیکھا،جنہوں نےاللہ کےاحسان کےبدل ناشکری کی،قسم خداکی ان لوگوں میں سےمرادقریش کےکافرہیں۔عمروبن دینارنےکہا(اس آیت میں)لوگوں سےمرادقریش ہیں،اوراللہ کےاحسان سےمرادآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی ذات ہے۔دارالبوارسےمراددوزخ ہےیعنی بدرکےدن ان لوگوں نےاپنی قوم کودوزخ رسیدکیا۔
1156: - مجھ سےعبیدبن اسماعیل نےبیان کیاکہاہم سےابواسامہ نےانہوں نےہشام سےانہوں نےاپنےوالدعروہ سےانہوں نےکہاحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماکےسامنےآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےاس ارشادکاذکرآیاکہ مردےپراس کےعزیزوں کےرونےسےعذاب ہوتاہے۔انہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےیہ فرمایاہےکہ مردےپراپنی خطاؤں اورگناہوں کی وجہ سےعذاب ہوتاہےاوراس کے عزیزاس پرروتےرہتےہیں(ان کویہ خبرنہیں کہ مردےکاکیاحال ہے)اوریہ ویساہی مضمون ہےجیسےعبداللہ بن عمرکہتےہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بدرکےگڑھےپرکھڑےہوئےاس میں مشرکوں کی لاشیں تھیں جوبدرکےدن مارےگئےتھےآپ نےفرمایاوہ میراکہناسن رہےہیں،حالانکہ آپ نےیہ فرمایاتھاکہ اب ان کومعلوم ہوگیاجومیں کہتاتھا(شرک چھوڑواللہ پرایمان لاؤ)سچ تھا۔پھرحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہمانے(سورۃ نمل کی)یہ آیت اےپیغمبر!تومردوں کواپنی بات نہیں سناسکتا(اورسورۃ فاطرکی)یہ آیت اےپیغمبرتوقبروالوں کواپنی بات نہیں سناسکتا،پڑھی۔عروہ کہتےہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماکامطلب مردوں کانہ سناسکنےسے(جس کابیان ان آیتوں میں ہے)یہ کہ کہ جب وہ دوزخ میں اپنےٹھکانےپہنچ جائيں گے۔
1157: - مجھ سےعثمان بن ابی شیبہ نےبیان کیاکہاہم سےعبدہ بن سلیمان نےانہوں نےہشام سےانہوں نےاپنےوالدعروہ سےانہوں نےعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسےانہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)بدرکے کنویں پرکھڑےہوئےاور(مشرکوں کوجومارےگئےتھے،مخاطب کرکے)فرمایایہ تمہارےپروردگارنےجوتم سےوعدہ کیاتھا،وہ تحقیق تم نےپایا،پھرفرمایایہ لوگ اس وقت میراکہناسنتےہیں ابن عمرکی یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہماسےبیان کی گئی، توانہوں نےکہا،آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےیوں فرمایاتھا،ان لوگوں کواب معلوم ہوگیاجومیں ان سےکہتاتھاوہ سچ تھا،پھرانہوں نے(سورۃ نمل کی)یہ آیت پڑھی،اےپیغمبرتومردوں کونہیں سناسکتا،اخیرتک۔
باب: 477: - جوصحابہ جنگ بدرمیں شریک ہوئےان کی فضیلت۔
1158: - مجھ سےعبداللہ بن مسندی نےبیان کیاکہاہم سےمعاویہ بن عمرونےکہا،ہم سےابواسحاق(ابراہیم بن محمدقراری)نےانہوں نےحمیدطویل سےانہوں نےکہامیں نےانس رضی اللہ تعالی عنہ سےسناوہ کہتےتھےحارثہ بن سراقہ بدرکےدن شہیدہوئےوہ لڑکےتھے۔ان کی والدہ ربیع بنت نضرانس کی پھوپھی تھیں،آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کےپاس آئیں کہنےلگیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آپ جانتےہیں حارثہ سےمجھ کوکیسی محبت تھی،اب اگروہ بہشت میں(چین سے)ہےتومیں صبرکروں،ثواب کی امیدرکھو!اگرکسی اور(برے)حال میں ہےتوآپ دیکھئےمیں کیاکرتی ہوں(کیساروتی پیٹتی ہوں)آپ نےفرمایاافسوس کیاتودیوانی ہے۔کیابہشت ایک ہی سمجھی ہے(اللہ کی بہت سی بہشتیں ہیں)اورتیرابیٹاحارثہ توفردوس میں ہے۔
1159: - مجھ سےاسحاق بن راہویہ نےبیان کیا،کہاہم کوعبداللہ بن ادریس نےخـبردی،کہامیں نےحصین بن عبدالرحمان (عبداللہ بن حبیب)سلمی سےانہوں نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سےانہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےمجھ کواورابومرثدغنوی اورزبیر(تینوں)کوبھیجا۔تینوں گھوڑےپرسوارتھے۔فرمایاروضہ خاخ میں جاؤ(جوایک مقام کانام ہےمکہ مدینہ کےدرمیان)وہاں ایک مشرک عورت ملےگی(اس کانام سارہ تھا)اس کےپاس حاطب بن ابی بلتعہ کاایک خط ہے(مکہ کے)مشرکوں کےنام پروہ اس سےلےآؤحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہتےہیں (ہم چلےروضہ خاخ میں)جہاں آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےفرمایاتھاوہیں ہم نےاس کوپایاوہ ایک اونٹ پرجارہی تھی ہم نےاس سےکہالاخط نکال،اس نےکہامیرےپاس توکوئی خط نہیں ہے۔ہم نےاس کااونٹ بٹھایاتلاشی لی توکوئی خط نہ ملا،آخرہم نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کافرماناجھوٹ نہیں ہوسکتا،خط نکال نہیں توہم تجھےننگاکرکےدیکھیں گےجب اس نےاتنی سختی دیکھی تو(مجبورہوکر)اپنےنیفےپرہاتھ ڈالاایک چادرکی تہ بندباندھےہوئےتھی اورخط نکال کردیا۔خیرہم وہ لےکرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےپاس آئے(خط پڑھاگیا)حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کیا،یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) حاطب نےاللہ اوراس کےرسول اورمسلمانوں سےخیانت(دغابازی)کی آپ اجازت دیجئےمیں اس کی گردن اڑادیتاہوں،آپ نے(حاطب کوبلاکران سے)پوچھاحاطب تونےیہ کیاکیا؟حاطب رضی اللہ تعالی عنہ نےعرض کیاخداکی قسم بھلامجھ کوکیاجنون ہواہے کہ میں اللہ اوررسول پرایمان نہ رکھوں(یاخداکی قسم میں تودل سےاللہ اوررسول پرایمان رکھتاہوں)میری غرض اس خط کےلکھنےسےصرف اتنی ہی تھی کہ قریش کےکافروں پرمیراکچھ احسان ہوجائے۔اس کے لحاظ سےمیرےبال بچوں،جائدادوغیرہ کو(تباہ نہ کریں)اللہ ان کےہاتھ بچائےرکھے،آپ جانتےہیں آپ کےدوسرےاصحاب کے(مکہ میں)عزیزواقارب ہیں جن کی وجہ ان کاگھربارمال سب (بچاہواہے)اللہ بچاتاہے(میراکوئی ایساعزیزوہاں نہ تھا)۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے(حاطب کابیان سن کر)فرمایاسچ کہتاہےاس کواچھاہی کہو(مسلمان سمجھو،منافق وغیرہ ایسےلفظ نہ کہو)حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نےپھرعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اس نےاللہ اوررسول اورمسلمانوں کےساتھ دغابازی کی ۔حکم دیجئےمیں اس کی گردن اڑادوں۔آپ نےفرمایاحاطب بدرکی لڑائی میں شریک تھا(تم کومعلوم نہیں)اللہ نے(آسمان پرسے)بدروالوں کودیکھافرمایااب تم جیسےچاہو(اچھےبرے)کام کروتمہارےلئےتوبہشت واجب ہوگئی ۔ یامیں نےتم کوبخش دیا۔یہ سنتےہی حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ آب دیدہ ہوگئےاورکہنےلگےاللہ اوراس کارسول ہرکام کی مصلحت خوب جانتاہے۔
باب نمبر478:-
1160: - مجھ سےعبداللہ بن محمدجعفی نےبیان کیاکہاہم سےابواحمدزبیری نےکہاہم سےعبدالرحمان بن غسیل نے،انہوں نےحمزہ بن ابی اسیداورزبیربن منذربن ابی اسیدسےانہوں نےابواسید(مالک بن ربیعہ)سےانہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےبدرکےدن ہم لوگوں سےفرمایاجب کافرتمہارےقریب آجائيں(زدپر)اس وقت تیرمارواوراپنےتیروں کوبچائےرکھو۔

تبصرے (0)

حدیث نبوی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

اوروحشی(بن حرب حبشی)نےکہا،حمزہ نےبدرکےدن طیمہ بن عدی بن خیارکومارڈالا۔اوراللہ تعالی نےفرمایامسلمانو!وہ وقت یادکروجب اللہ تعالی تم سےدوگروہوں میں سےایک کاوعدہ کرتاتھا،ایک تم کوضرورملےگا،اخیرتک(سورۃ الانفال:7)
1129: مجھ سےیحیی بن بکیرنےبیان کیا،کہاہم سےلیث نے،انہوں نےعقیل سے،انہوں نےابن شہاب سے،انہوں نےعبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب سے،ان کےوالدعبداللہ بن کعب نےکہا،میں نےاپنےوالدکعب بن مالک رضی اللہ عنہ،سے سناوہ کہتےتھےمیں کسی لڑائی میں جوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کی، آپ کوچھوڑکرپیچھے نہیں رہا،سواتبوک کی لڑائی کے،اوربدرکی لڑائي میں جومیں پیچھےرہ گیاتو اس میں نہ جانےسےاللہ نےکسی پرعتاب نہیں کیاکیونکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بدرمیں(لڑنےکی نیت سے نہیں گئےتھے)بلکہ قریش کاقافلہ لوٹنےکی نیت سےمگراللہ نےناگہانی مسلمانوں کوان کے دشمنوں سےبھڑادیا۔
باب: اللہ تعالی کا(سورۃ انفال میں) فرمانا۔
جب تم اپنےمالک سےفریادکررہےتھے،اس نےتمہاری فریادسن لی فرمایامیں لگاتارہزارفرشتوں سےتمہاری مددکروں گا،اوریہ مددجواللہ نےکی وہ صرف تم کوخوش کرنے اورتمہارے دلوں کواطمینان دینےکےلئےورنہ فتح توخداکی طرف سےہے،کیوں کہ اللہ زبردست ہےحکمت والا۔یہ وہ وقت تھاجب تم کوبےڈربنانےکےلئے تم پراونگھ ڈال رہاتھا،اورتم کوپاک کرنےاورشیطان کی گندگی دورکرنےاورتمہارےدلوں کوڈھارس دینےاورتمہارےپاؤں جمانے کےلئےآسمان سےتم پرپانی برسارہاتھا۔یہ وہ وقت تھاجب اےپیغمبرتیرامالک فرشتوں کوحکم دےرہاتھامیں تمہارےساتھ ہوں تم (جاکر)مسلمانوں کادل مضبوط کرو،اورمیں ابھی کافروں کےدل میں دہشت ڈال دیتاہوں،تم ایساکرناان کی گردنوں اورپورپورپرمارلگانا،ان کی یہی سزاہےکیونکہ انہوں نےاللہ اوراس کے رسول(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کیااوراللہ اوراس کے رسول سے جوخلاف کرےاس کویہ سمجھ لیناچاہیےکہ اللہ عذاب سخت ہے۔(سورۃ انفال9-12)
1130:- ہم سےنعیم نےبیان کیاکہاہم سےاسرائیل بن یونس نے،انہوں نےمخارق بن عبداللہ بجلی سے،انہوں نےطارق بن شہاب سے،انہوں نےکہامیں نےابن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ سےسنا وہ کہتےتھےمیں نےمقدادبن اسودکی ایک ایسی بات دیکھی اگروہ بات مجھ کو حاصل ہوتی تو اس مقابل میں کسی نیکی کونہ سمجھتا۔سب سےزیادہ مجھ کوپسندہوتی،ہوایہ کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) مشرکوں پربددعاکررہےتھے۔اتنےمیں مقدادآن پہنچے،انہوں نےعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہم اس طرح نہیں کہنےکےجیسےحضرت موسی علیہ السلام کی قوم نےان سےکہاتھاتم اورتمہاراپروردگاردنوں جاؤ(جبارین سےلڑو)ہم تو آپ کےداہنےطرف بائیں طرف سامنے،پیچھے(جدھرآپ فرمائیں گےیاجہاں آپ کادشمن ہوگا اس سے)لڑیں گے۔ابن مسعودکہتےہیں مقدادکویہ کہتےہی میں نےدیکھاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کامبارک چہرہ چمکنےلگا،آپ خوش ہوگئے۔
1131:- مجھ سےمحمدبن عبداللہ بن حوشب نےبیان کیاہم سےعبدالوہاب نےکہاہم سےخالدحذاءنےانہوں نےعکرمہ سےانہوں نےابن عباس سے،انہوں نےکہاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےبدرکےدن فرمایااللہ میں تجھ سےیہ سوال کرتاہوں کہ اپناوعدہ اوراقرارپوراکر،یااللہ اگرتیری مرضی یہی ہے(کہ یہ کافرغالب ہوں)توپھرزمین میں تیراپوجاکرنےوالاکوئی نہ رہےگا۔ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نےآپ کاہاتھ تھام لیااورعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بس کیجئے(دعاکرنےکی حدہوچکی ہے)اس وقت ڈیرےسےیہ آیت(سورۃ قمرکی)پڑھتےہوئےباہرنکلے،اب یہ کافروں کاگروہ شکست پاتاہےاورپیٹھ دکھاتاہے۔
باب:- 473:-
1132:- مجھ سےابراہیم بن موسی نےبیان کیا،کہاہم کوہشام نےخبردی،ان کوابن جریج نےکہامجھ کوعبدالکریم بن مالک نےخبردی،انہوں نےمقسم سےسناجوعبداللہ بن حارث کےغلام تھے۔وہ ابن عباس سےروایت کرتےتھے(سورۃ النساءکی)اس آیت سےجومسلمان جہادنہ کرکےگھروں میں بیٹھ رہیں وہ ان کے برابرنہیں ہوسکتے،وہ لوگ مرادہیں جوبدرکی لڑائي میں شریک ہوئےاورجواس میں شریک نہیں ہوئے۔
باب۔474:- جنگ بدرمیں جومسلمان شریک تھے ان شمار۔
1133: - ہم سےمسلم بن ابراہیم نےبیان کیاکہاہم سےشعبہ نےانہوں نےابواسحاق سے،انہوں نےبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہماسے،انہوں نےکہامیں اورعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہمادونوں(بدرکےدنوں میں)چھوٹے(نابالغ)سمجھےگئے(دوسری سند)امام بخاری کہتےہیں اورمجھ سےمحمودبن غیلان نےبیان کیاکہاہم سےوہب بن جریرنے،انہوں نےشعبہ سےانہوں نےابواسحاق سےانہوں نےبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہماسےانہوں نےکہامیں اورعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہمادونوں بدرکی لڑائی میں کمسن سمجھےگئےاوربدرکی لڑائی میں مہاجرین کاشمارکچھ اوپرساٹھ آدمی کاتھا۔اورانصاردوسوچالیس پرکئی تھے(سب تین سودس،تین سوتیرہ یاتین سوسترہ یاتین سوانیس تھے)۔
1134:- ہم سےعمروبن خالدنےبیان کیاکہاہم سےزہیربن معاویہ نےکہاہم سےابواسحاق نےکہامیں نےبراءبن عازب سےسنا،وہ کہتےتھے،مجھ سےآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کےاصحاب نےبیان کیا،کہ بدرکی جنگ میں جولوگ شریک تھےان کاشماروہی تھاجوطالوت(بادشاہ)کےساتھ والوں کاتھا،جونہرکےپاس گئےتھےیعنی تین سودس پرکئي آدمی۔براء نےکہاطالوت کےساتھ نہرپاروہی لوگ گئےتھےجوایماندارتھے(بےایمان سب پانی غناغٹ پی کرنہرپررہ گئےتھے)۔
1135:- ہم سےعبداللہ بن رجاء نےبیان کیاکہاہم سےاسرائیل نے،انہوں نےابواسحاق سےانہوں نےبراء بن عازب سےانہوں نےکہاہم لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےاصحاب یوں کہاکرتےتھےکہ بدروالوں کاشماروہی تھاجوطالوت کےساتھ والوں کاتھا۔جوطالوت کےساتھ نہرپرگئےتھےیعنی تین سودس پرکئي آدمی اوروہی لوگ طالوت کےساتھ نہرپرگئےتھےجوایمان دارتھے۔
1136:- مجھ سےعبداللہ بن ابی شیبہ نےبیان کیا،کہاہم سےیحیی بن سعیدقطان نے،انہوں نےسفیان ثوری سےانہوں نےابواسحاق سےانہوں نےبراء بن عازب رضی اللہ عنہماسے۔(دوسری سند)امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نےکہااورہم سےمحمد بن کثیرنےبیان کیا،کہاہم کوسفیان ثوری نےخبردی،انہوں نےابواسحاق سے،انہوں نےبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہماسے،انہوں نےکہاہم لوگ یوں کہاکرتےتھے،کہ بدرکی جنگ والوں کاشمارتین سودس پرکئی آدمی کاتھا۔جتنےلوگ طالوت کےساتھ نہرپارگئےتھےاورطالوت کےساتھ نہرپاروہی گئےتھےجوایماندارتھے۔
باب:475:- آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کاقریش کےکافروں شیبہ اورعتبہ اورولیدبن عتبہ اورابوجہل بن ہشام کےلئےبددعاکرنااوران کاماراجانا۔
1137:- مجھ سےعمروبن خالدحرانی نےبیان کیاکہاہم سےزہیربن معاویہ نےکہامجھ سےابواسحاق سبیعی نےانہوں نےعمروبن میمون سے،انہوں نےعبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ سے،انہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےکعبےکی طرف منہ کیااورقریش کےکئی کافروں کےلئےبددعاکی شیبہ بن ربیعہ اورعتبہ بن ربیعہ اورولیدبن عتبہ اورابوجہل بن ہشام کےلئے،عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ کہتےہیں۔خداگواہ ہےمیں نےان لوگوں کو(بدرکےمیدان میں)پڑادیکھا،دھوپ کی گرمی سےان کی لاشیں بدبودارہوگئ تھیں اس دن بڑی گرمی تھی۔
باب:476:- ابوجہل کاماراجانا۔
1138:- ہم سےمحمدبن عبداللہ بن نمیرنےبیان کیاکہاہم سےابواسامہ حمادبن اسامہ نےکہاہم سےاسماعیل بن ابی خالدنےکہاہم کوقیس بن ابی حازم نےخبردی،انہوں نےعبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ سےوہ جنگ بدرمیں ابوجہل کے پاس آئےاس میں کچھ جان باقی تھی ابوجہل نےکہا،بھلامجھ سےبڑھ کرکون شخص ہےجس کوتم نےمارا۔
1139: - ہم سےاحمدبن یونس نےبیان کیاکہاہم سےزہیربن معاویہ نےکہاہم سےسلیمان بن طرخان نے،ان سےانس نےکہاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےفرمایا۔(دوسری سند)اورامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نےکہامجھ سےعمروبن خالدنےبیان کیاکہاہم سےزہیربن معاویہ نے،انہوں نےسلیمان تیمی سےانہوں نےانس سے،انہوں نےکہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے(بدرکےدن صحابہ سے)فرمایاابوجہل کوکون دیکھ کراس کی خبرلاتاہے۔یہ سن کرعبداللہ بن مسعودگئے،دیکھاتوعفراء کےدونوں بیٹوں(معاذاورمعوذ)نےاس کو(تلواروں)سےاتناماراکہ وہ ٹھنڈاہورہاہے۔(مرنےکےقریب ہے)عبداللہ بن مسعودنےاس کی ڈاڑھی پکڑی،پوچھاکہ کہ توہی ابوجہل ہے۔وہ کہنےلگابھلامجھ سےبڑھ کرکون شخص ہےجس کوتم نےقتل کیایایوں کہنےلگااس شخص سےکون بڑھ کرہے،جس کواس کی قوم نےقتل کیاہو۔احمدبن یونس نےاپنی روایت مین یوں کہاعبداللہ نےکہاتوابوجہل ہے(بغیراستفہام کے)
1140: - مجھ سےمحمد بن مثنی نےبیان کیاکہاہم سےابن ابی عدی نےانہوں نےسلیمان تیمی سےانہوں نےانس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نےبدرکےدن فرمایاابوجہل کودیکھ کراس کوکون خبرلاتاہے؟یہ سن کرعبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ گئےتودیکھاکہ عضراء کےبیٹوں نےاس کواتناماراکہ وہ ٹھنڈاہوگياہے۔انہوں نےاس کی ڈاڑھی پکڑی اورکہاتوابوجہل ہےاس نےجواب دیامجھ سےبڑھ کرکون شخص ہےجس کواس کی قوم نےیاتم لوگوں نےمارا۔

تبصرے (0)

January 7, 2010

حدیث نبوی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

1165:- ہم سےموسی بن اسماعیل نےبینا کیاکہاہم سےابراہیم بن سعدنےکہاہم کوابن شہاب زہری نےخبردی کہامجھ کوعمربن اسیدبن جاریہ نےجوبنی زہرہ کاحلیف اورابوہریرہ کےیاروں میں تھا۔اس نےابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت کی انہوں نےکہاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےدس آدمیوں کی جاسوسی ٹکڑی بھیجی، اوراس کاسردارعاصم بن ثابت انصاری کوکیاجوعاصم بن عمربن خطاب کےناناتھے،(یاماموں)خیریہ لوگ جب ہدہ میں پہنچےجوایک مقام ہے،عسفان اورمکہ کےدرمیان وہاں ہذیل قبیلے کی ایک شاخ بنی لحیان سےکسی نےان کےآنےکاذکرکردیا،انہوں سےسوآدمی تیراندازان کے تعاقب میں روانہ ہوکئے۔یہ لوگ(یعنی بنی لحیان) اس ٹکڑی کاکھوج لگانےلگے،ایک مقام پرجہاں لوگ اس ٹکڑی کے لوگ اترےتھے،انہوں نےکھجورکی گٹھلیاں پائیں۔کہنےلگےیہ یثرب(یعنی مدینہ کی)کھجورمعلوم ہوتی ہے،اسی پتہ پران کےقدموں کانشان دیکھتےچلے۔جب عاصم اوران کے ساتھیوں نےدیکھایہ لوگ آن پہنچےتوایک (بلند)جگہ پرپناہ لی۔بنی لحیان کےتیراندزوں نےان کوگھیرلیا،اورکہنےلگےتم اترآؤ،اپنےتئیں سپردکردوہم تم سےعہدوپیمان کرتےہیں ہم کسی کونہیں مارنےکے۔عاصم نےاپنےساتھیوں سےکہالوگو!میں توکافرکی پناہ میں نہیں اترنےکا،اوردعاکی یااللہ ہماراحال ہمارےپیغمبر(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوپہنچادے۔بنی لحیان نےان کوتیرمارناشروع کئے۔عاصم(سات آدمیوں سمیت)شہیدہوئے۔رہ گئےتین آدمی خبیب اورزیدبن دثنہ اورایک آدمی اور(عبداللہ بن طارق)یہ تینوں(لاچارہوکر)ان کےعہدپربھروساکرکےاترآئے۔جب انہوں نےان تینوں پرقابوپائی توکمانوں کی تانت نکالی اوراس سےان کی مشکیں کسیں،اس پروہ تیسراشخص (عبداللہ بن طارق)بولایہ پہلی دعاہے،میں توقسم خداکی تمہارےساتھ نہیں جانےکا،میں اپنےساتھیوں کےپاس جومارےگئے،جاناچاہتاہوں۔انہوں نےاس کوکھینچااوربہت زرولگایا(کہ مکہ تک لےچلیں)لیکن اس نےکسی طرح نہ مانا،اورخبیب اورزیدبن دثنہ کواپنےہمراہ لےگئےان دونوں کومکہ میں جاکربیچا،یہ واقعہ بدرکی لڑائی کےبعدرونماہوا۔توخبیب کوحارث بن عامربن نوفل کےبیٹوں نےخریدلیا۔ہوایہ تھاکہ خبیب نےبدرکےدن حارث بن عامرکوقتل کیاتھا،خیرخبیب(ایک مدت تک)بنی حارث کےپاس قیدرہے(ان کوحرام کےمہینےگزرجانےکاانتظارتھا)جب انہوں نےان کےقتل کی ٹھان لی توخبیب رضی اللہ تعالی عنہ نےحارث کی ایک بیٹی سےاسترہ مانگازیرناف کےبال صاف کرنےکو،اس نےدےدیا۔اتفاق سےاس کاایک بچہ خبیب کےپاس چلاگیا،ماں کوخبرنہ تھی،اس نےجودیکھاتووہ بچہ خبیب کی ران پربیٹھاہےاوراسترہ خبیب رضی اللہ تعالی عنہ کےہاتھ میں ہے۔یہ حال دیکھ کرماں پریشان ہوگئی ایسی گھبرائي کہ خبیب رضی اللہ تعالی عنہ نےاسکی پریشانی (چہرےسے)پہنچان لی،انہوں نےکہا(نیک بخت)کیاتویہ ڈررہی ہےکہ میں اس بچہ کومارڈالوں گا۔میں ایساکبھی نہیں کرنےکا(واہ رےخداترسی)اس بچےکی ماں کہتی ہےخداکی قسم میں نےکوئی قیدی خبیب رضی اللہ تعالی عنہ سےبڑھ کرنہیں پایا،خداکی قسم میں نےدیکھاوہ انگورکاخوشہ ہاتھ میں لئےانگورکھارہےتھےحالانکہ وہ لوہےکی (زنجیروں)میں جکڑےہوئےتھے،اوران دنوں مکہ میں کوئی میوہ نہ تھا،وہ کہتی تھی یہ میوہ (خاص)اللہ تعالی نےخبیب رضی اللہ تعالی عنہ کوبھیجاتھا۔خیرجب حارث کےبیٹےخبیب کوقتل کرنےکےلئےحرم کی سرحدسےباہرلےگئےتوخـبیب رضی اللہ تعالی عنہ نےان سےکہاذرامجھ کودورکعتیں پڑھ لینےدو۔انہوں نےکہااچھاخبیب نےدورکعتیں پڑھیں پھراپنےقاتلوں سےکہنےلگے،خداکی قسم اگرتم یہ خیال نہ کروکہ میں قتل ہونےسےگھبراتاہوں تواورزیادہ نمازپڑھتا،بعداس کےیوں دعاکی،یااللہ ان کوبالکل تباہ کردے،ایک ایک کرکےمارڈال،ان میں سےکسی کومت چھوڑ،پھریہ شعرپڑھیں،
جب مسلماں رہ کےدنیاسےچلوں
مجھ کیاڈرہےکس کروٹ پرگروں
میرامرناخداکی ذات میں
وہ اگرچاہےنہ ہوں گامیں زبوں
تن جوٹکڑےٹکڑےہوکرخراب ہوجائےگاان کےجوڑوں پروہ برکت دےگافزوں اس کے بعدحارث کابیٹاابوسروعہ عقبہ اٹھااوراس نےخبیب رضی اللہ تعالی عنہ کوشہیدکیا،خبیب ہی سےیہ سنت نکلی جومسلمان اس طرح بےبس ماراجائےوہ دورکعتیں نمازپڑھ لے،اورآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نےاپنےاصحاب کوعاصم اوران کےساتھیوں کےشہیدہونےکی اسی دن خبردی،جس دن وہ شہیدہوئے،قریش کےکافروں نےچندلوگوں کوعاصم کےقتل کی خبرسن کربھیجاکہ اس کےبدن کاکوئی حصہ بطورعلامت لےکرآئیں کیونکہ عاصم نےان کافروں کےایک بڑےآدمی(عقبہ بن ابی معیط ملعون)کوقتل کیاتھا،اللہ تعالی نےبھڑوں (زنبوروں)کی ایک فوج ابرکی طرح ان کی لاش پربھیج دی،انہوں نےقریش کےآدمیوں سےلاش کوبچالیا(ایک کوپاس نہ پھٹکنےدیا)کچھ لاش میں سےکاٹنےنہ دیا،اورکعب بن مالک(صحابی)نےکہامجھ سےلوگوں نےبیان کیاکہ مرارہ بن ربیع اورہلال بن امیہ واقفی دونیک بخت شخص جوبدرکی لڑائی میں شریک تھے(لیکن تبوک کی لڑائی میں پیچھےرہ گئےتھے)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (0)

January 6, 2010

حدیث نبوی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

1164:- مجھ سےیعقوب بن ابراہیم نےبیان کیا،کہاہم سےابراہیم بن سعدنےانہوں نےاپنےوالدسعدبن ابراہیم سے،انہوں نےاپنےدادا(عبدالرحمان بن عوف)سےانہوں نےکہابدرکےدن میں صف میں کھڑا تھامیں نےنگاہ پھیری توکیادیکھتاہوں میرےدائیں بائیں، دونوجوان لڑکےہیں(انصارکے)مجھےان لڑکوں کودیکھ کر(ڈرپیداہوا)ان کےداہنےبائیں رہنےسےاطمینان جاتارہا۔اتنےمیں کیاہوا،ان میں سےایک چپکےسےجس کی خبراس کےساتھی کونہ ہوئی مجھ سےپوچھنےلگاچچاابوجہل کوتومجھ کودکھادو(وہ کون شخص ہے)میں نےکہابھتیجےتھج کوابوجہل سےکیامطلب ،تو کیاکرےگا۔وہ کہنےلگامیں نےخداسےیہ عدہ کیاہےاگرابوجہل کودیکھوں تواس کومارڈالوں گا،یاخودماراجاؤں گا۔پھردوسرےنےبھی اسی طرح چپکےسےجس کی خبراس کے ساتھی کونہ ہوئی، مجھ سےیہی پوچھاجب تومجھ کوان کےبدل دوسرےمردوں کےبیچ میں رہنےکی آرزونہ رہی، آخرمیں نےان کواشارےسےبتلادیا،یہی ابوجہل ہے،یہ سنتےہی وہ دونون لڑکےشکروں کی طرح اس پرجھپٹےاور(مارتلواروں)اس کاکام تمام کردیا،یہ دونوں نوجوان عفراء کےبیٹے(معاذاورمعوذ)تھے۔

صحیح بخاری جلددوئم مترجم (مولاناوحیدالزمان خان صاحب)

والسلام
جاویداقبال

تبصرے (0)

 Click here to buy posters!
free counters free web counter